صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 501 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 501

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۰۱ ۶۵ - کتاب التفسیر / قل اعوذ برب الفلق حاصل کرنا چاہتے ہیں اور دوسروں کو دُکھ دینے کے درپے رہتے ہیں۔اس قسم کے لوگ بھی ہمیشہ دنیا میں ہوتے رہے ہیں۔اور آجکل اس گروہ کی ایک بڑی جماعت امریکہ میں موجود ہے۔ان کا مطلب بھی سوائے شرارت کے اور کچھ نہیں ہوتا۔اور یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے پیشہ کو مخفی رکھتے ہیں۔ورنہ گورنمنٹ ایسے لوگوں کو ہر جگہ گرفتار کر کے سزا دیتی ہے۔ایسے لوگوں کی شرارتوں سے بچنے کے واسطے انسان کو چاہیے کہ ہمیشہ ہوشیار رہے اور ہوشیاری کا سب سے عمدہ اور اعلیٰ طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں ان کی شرارت سے پناہ مانگی جائے۔۔۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر نہ ہونے کی ایک ظاہر دلیل یہ ہے کہ آنحضرت کو مسحور کہنا تو قرآن شریف میں کفار کا قول ہے جو کہ جھوٹا قول ہے اور نیز خدا تعالیٰ کا کلام ہے وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدة : ۲۸) پھر کس طرح ممکن ہو سکتا ہے کہ کسی یہودی کا جادو آنحضرت پر چل جاتا۔۔۔فلق : اس چیز کو کہتے ہیں جو کہ پھٹ کر پیدا ہو۔جیسا کہ دانہ جو زمین میں بویا جاتا ہے اور جب اس کو نمی پہنچتی ہے تو وہ پھٹ جاتا ہے اور اس میں سے ایک بڑا درخت پیدا ہوتا ہے۔ایسا ہی فلق صبح کو بھی کہتے ہیں کہ رات کی تاریکی پھٹ جاتی ہے اور اس میں سے صبح کی روشنی نمودار ہوتی ہے۔زجاج کا قول ہے الْفَلَقُ الصُّبْحُ لاَنَّ اللَّيْلَ يَفْلِقُ عَنْهُ الصُّبْحُ وَيَفْرِقُ فعل بمعنی مفعول۔فَلَق صبح کو کہتے ہیں کیونکہ رات سے صبح نکلتی ہے اور جد اہوتی ہے۔اس جگہ فعل مفعول کے معنوں میں آیا ہے۔اس کی مثال ہے هُوَ آبَي مِنْ فَلَقِ الصُّبْحِ۔ایسا ہی قرآنِ شریف میں اللہ تعالیٰ کی صفات میں بیان ہوا ہے کہ وہ فَالِقُ الْإِصباح " (الانعام : ۹۷) ہے رات کے وقت جب تمام دنیا پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو بادشاہ اور سپاہی، امیر اور غریب سب برابر ہو جاتے ہیں تاریکی میں شناخت نہیں ہو سکتی کہ دشمن کون ہیں اور ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : اور اللہ تجھے لوگوں سے بچائے گا۔“ یہ بات صبح نمایاں ہونے سے زیادہ روشن ہے۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : وہ صبحوں کا پھاڑنے والا ہے۔“