صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 500
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۰۰ ۶۵ - کتاب التفسیر / قل اعوذ برب الفلق حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ سورہ شریفہ مدنی ہے یعنی مدینہ منورہ میں نازل ہوئی تھی۔اس میں بِسْمِ اللہ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ کے بعد پانچ آیتیں ہیں۔اور تئیس کلے ہیں اور تہتر حروف ہیں۔۔اس سورۃ کے شانِ نزول میں بعض مفسروں نے یہ بیان کیا ہے کہ کسی یہودی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا تھا اور اس قسم کے جادوگروں کے شر سے محفوظ رکھنے کے واسطے اللہ تعالیٰ نے یہ دعا سکھلائی۔اس واقعہ کو اگر احادیث میں دیکھا جائے۔اول تو اس حدیث کا راوی صرف ایک شخص ہے یعنی ھشام۔حالانکہ اتنے بڑے واقعہ کے واسطے ضروری تھا کہ کوئی اور صاحب بھی اس کا ذکر کرتے۔دوم: اگر یہ واقعہ صحیح بھی ہو تو اس سے یہ نہیں ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت پر اس جادو کا کچھ اثر ہو گیا تھا یا آنحضرت نے ان جادو کرنے والے لوگوں کا کچھ پیچھا کیا تھا یا اُن کو گر فتار کیا تھا۔ہاں اس میں کوئی شک نہیں ہو سکتا کہ ہر زمانہ میں اور ہر ملک میں اسی قسم کے آدمی ہو ا کرتے ہیں جن کا یہ پیشہ ہوا کرتا ہے کہ وہ لوگوں پر جادو کیا کریں۔اور یہ لوگ تین قسم کے ہوتے ہیں۔ایک تو وہ جو خفیہ سازشوں اور شرارتوں کے ذریعہ سے لوگوں کو سزا دیتے ہیں۔مثلاً ایک شخص ان کے پاس آیا ہے۔اور وہ ایک دوسرے شخص کے ساتھ دشمنی رکھتا ہے۔اس واسطے ان کے پاس اپنی یہ خواہش لاتا ہے کہ میرا دشمن مر جائے یا کسی سخت بیماری میں مبتلا ہو جائے یا مجنون ہو جائے تو وہ اس شخص کو ویسے ہی کوئی تعویذ بنا دیں گے یا کوئی تاکہ گر ہیں ڈال کر دیدیں گے اور کہہ دیں گے کہ یہ کسی طرح اپنے دشمنوں کو کھلاؤ یا اس کے گھر میں ڈال دو۔پا اور کوئی بات اس قسم کی بتلا دیں گے لیکن دراصل یہ صرف ایک ظاہری بات اس شخص کو دھوکا دینے والی ہو گی اور خفیہ طور پر وہ اس کے دشمن کو کسی دوائی کے ذریعہ سے بیمار کرنے یا مجنون کرنے یا ہلاک کرنے پر کمر باندھیں گے۔اور کسی نہ بیمار یا پر نہ کسی حیلہ سے اس کام کو پورا کر کے اپنے جادو گر ہونے کا لوگوں کو یقین دلائیں گے۔دوسری قسم کے وہ لوگ ہوتے ہیں جو توجہ کے ذریعہ سے اس معاملہ میں کامیابی