صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 499 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 499

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۹۹ ۶۵ - کتاب التفسیر / قل اعوذ برب الفلق ۱۱۳- سُورَةُ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقَالَ مُجَاهِدٌ الْفَلَقِ (الفلق : ۲) اور مجاہد نے کہا: الفلق سے مراد ہے صبح۔اور الصبح۔وَ غَاسِقٍ (الفلق : ٤) اللَّيْل غَاسِقٍ سے مراد ہے رات۔اذا وقب سے مراد إذَا وَقَبَ (الفلق : ٤) غُرُوبُ الشَّمْس سورج کا غروب ہونا ہے۔کہتے ہیں یہ بات صبح يُقَالُ أَبْيَنُ مِنْ فَرَقِ وَفَلَقِ الصُّبْح نمایاں ہونے سے زیادہ روشن ہے۔وقب اس وقب (الفلق : ٤) إِذَا دَخَلَ فِي كُلّ وقت کہتے ہیں جب کوئی چیز کسی چیز میں بالکل شَيْءٍ وَأَظْلَمَ۔داخل ہو جائے اور اندھیرا ہو جائے۔٤٩٧٦ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ :۴۹۷۶ قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ وَعَبْدَةَ عَنْ سفيان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا، انہوں نے بْنِ حُبَيْشِ قَالَ سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ عاصم اور عبدہ بن ابی لبابہ ) سے ، ان دونوں نے كَعْبٍ عَنِ الْمُعَوَّذَتَيْنِ فَقَالَ سَأَلْتُ زر بن حبیش سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نے حضرت ابی بن کعب سے معوذتین کے متعلق قِيلَ لِي فَقُلْتُ فَنَحْنُ نَقُولُ كَمَا پوچھا۔انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: مجھے کہا گیا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔(کہو)، تو میں نے یوں کہا اور ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔طرفه: ٤٩٧٧ - وو تشريح: سُورَةُ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ: حضرت خلیفہ البیع الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ سورۃ مشتمل ہے ایک جامع دُعا پر۔رسول اکر تم نے اس سورۃ کے نزول کے بعد بہت سے تعوذ کی دعائیں ترک کر دی تھیں اور اسی کا ورد کیا کرتے تھے۔حتی کہ بیماری کی حالت میں بھی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس سورۃ کو آپ کے دست مبارک پر پڑھ کر آپ کے منہ اور بدن پر ملتی تھیں۔مگر افسوس کہ مسلمانوں نے عام طور سے اب ان عجیب پر تاثیر اور اد کو قریب ترک ہی کر دیا ہے۔“ (حقائق الفرقان جلد ۴ صفحه ۵۷۰)