صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 498 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 498

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۹۸ ۶۵ - كتاب التفسير / قل هو الله احد وَكَفِيئًا وَكِفَاءً وَاحِدٌ۔ أطرافه : ٣١٩٣، ٤٩٧٤ میں) اس کا کوئی بھی شریک کار نہیں۔ کھوا اور کفینا اور کفاء سب ایک ہی ہیں۔ ہیں۔ تشريح الله الصمد اله و ) الصمد : اللہ وہ (ہستی) ہے جس کے سب محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نو کا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اس اقل عبارت کو جو بقدر ایک سطر بھی نہیں دیکھنا چاہئے کہ کس لطافت اور عمدگی سے ہر یک قسم کی شراکت سے وجود حضرت باری کا منزہ ہونا بیان فرمایا ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ شرکت از روئے حضر عقلی چار قسم پر ہے کبھی شرکت عدد میں ہوتی ہے اور کبھی مرتبہ میں اور کبھی نسب میں اور کبھی فعل اور تاثیر میں۔ سو اس سورۃ میں ان چاروں قسموں کی شرکت سے خدا کا پاک ہونا بیان فرمایا اور کھول کر بتلا دیا کہ وہ اپنے عدد میں ایک ہے دو یا تین نہیں اور وہ صمد ہے یعنی اپنے مرتبہ وجوب اور محتاج الیہ ہونے میں منفرد اور یگانہ ہے اور بجز اس کے تمام چیزیں ممکن الوجود اور بالک الذات ہیں جو اس کی طرف ہر دم محتاج ہیں اور وہ کچھ بلڈ ہے یعنی اس کا کوئی بیٹا نہیں تا بوجہ بیٹا ہونے کے اس کا شریک ٹھہر جائے ! جائے اور وہ لَمْ يُولَدُ - يُولد ہے یعنی اس کا کوئی باپ نہیں تا بوجہ باپ ہونے کے اس کا شریک بن جائے اور وہ لم یکن له کفوا ہے یعنی اس کے کاموں میں کوئی اس سے برابری کرنے والا نہیں تا باعتبار فعل کے اس کا شریک قرار پاوے۔ سو اس طور سے ظاہر فرما دیا کہ خدائے تعالیٰ چاروں قسم کی شرکت سے پاک اور منزہ ہے اور وحده لا شريك ہے۔“ " براہین احمدیہ حصہ چہارم، روحانی خزائن جلد اول، حاشیه در حاشیہ نمبر ۳ صفحه ۵۱۸)