صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 497
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۹۷ ۶۵ - كتاب التفسير / قل هو الله احد ۱۹ - سورة النور: حضرت رسول کریم صلی الی ایم نے فرمایا ہے کہ ہر ایک شے کے لئے ایک نور ہوتا ہے اور قرآن شریف کا نور قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ ہے۔۲۰- سورۃ الامان: حدیث شریف میں آیا ہے، جس کسی نے کہا لا إِلهَ إِلَّا الله وہ اللہ کے قلعہ میں داخل ہوا، جو قلعہ میں داخل ہوا، اُس نے امان پائی۔“ ( حقائق الفرقان جلد ۴ صفحه ۵۵۵ تا ۵۵۷) بَاب : قَوْلُهُ اللهُ الصَّمَدُ (الاخلاص: ۳)۔اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اللہ وہ (ہستی) ہے جس کے سب محتاج ہیں (اور وہ کسی کا محتاج نہیں) وَالْعَرَبُ تُسَمِّي أَشْرَافَهَا الصَّمَدَ اور عرب اپنے شرفاء کو صمد کہتے ہیں۔ابووائل قَالَ أَبُو وَائِلِ هُوَ السَّيِّدُ الَّذِي (شقيق بن سلمہ ) نے کہا: صمد وہ سردار ہے جس کی سرداری آخری حد تک پہنچ گئی۔انْتَهَى سُودَدُهُ۔٤٩٧٥ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ :۴۹۷۵ اسحاق بن منصور نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عبد الرزاق نے ہمیں بتایا۔معمر نے ہمیں خبر دی۔هَمَّامٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اُنہوں نے ہمام بن منبہ ) سے ، ہمام نے حضرت اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَّبَنِي ابْنُ ابو ہریرہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ وَشَتَمَنِي وَلَمْ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:) يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ أَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ أَنْ ابن آدم نے مجھے جھٹلایا اور اس کو یہ نہیں چاہیے يَقُولَ إِنِّي لَنْ أُعِيدَهُ كَمَا بَدَأْتُهُ تھا اور اس نے مجھے گالی دی اور اسے یہ نہیں چاہیئے تھا اور جو اس کا مجھے جھٹلانا ہے تو اس کا یہ کہنا ہے کہ وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ أَنْ يَقُولُ اتَّخَذَ میں اس کو ہر گز دوبارہ پیدا نہیں کروں گا جس طرح اللهُ وَلَدًا (البقرة: ۱۱۷) (یونس: ٦٩) کہ پہلے پیدا کیا اور جو اس کا مجھے گالی دینا ہے تو اس (الكهف : ٥) وَأَنَا الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ کا یہ کہنا ہے کہ اللہ نے ایک بیٹا بنا لیا۔حالانکہ میں أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لِي كُفُوًا بے نیاز (بادشاہ) ہوں کہ میں نے نہ جنا اور نہ جنا أَحَدٌ، لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ وَلَمْ يَكُن گیا اور نہ ہی کوئی میرا ہمسر ہے یعنی نہ اس نے کسی لَهُ كُفُوًا اَحَدٌ (الاخلاص : ٤ ، (٥) كُفُوًا کو جنا ہے اور نہ وہ جنا گیا ہے۔اور (اس کی صفات