صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 496 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 496

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۵ ۴۹۶ -٦ كتاب التفسير / قل هو الله احد پاس تشریف لے گئے تو آپ نے اس سورۃ کو اور سورتوں سے ملا کر تعوذ فرمایا۔۱۲- سورۃ الصمد: کیونکہ اس میں صمد کا ذکر خصوصیت کے ساتھ ہے۔۱۳ - سورة الاساس: حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یاسات آسمانوں اور سات زمینوں کی بنیاد قُلْ هُوَ اللهُ اَحَد پر بنائی گئی ہے۔اس بات کی سمجھ قرآن شریف کے اس مقام سے بخوبی آسکتی ہے۔جہاں اللہ تعالیٰ نے تثلیث اور ایک انسان کو خدا بنانے اور خدا کا بیٹا بنانے کی بھاری خرابی اور نہایت شرارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ عقیدہ ایسا ناپاک ہے کہ تَكَادُ السَّموتُ يَتَفَكَّرُنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُ الْأَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ (مریم: ۹۱) قریب ہے کہ آسمان ٹوٹ پڑیں اور زمین پھٹ جاوے اور پہاڑ گر جاویں۔پس جب تثلیث کا باطل عقیدہ دنیاو ما فیها کی خرابی اور بربادی کا موجب ہے۔تو اس کے بالمقابل توحید اُس کی عمدگی اور آبادی کا باعث ہے۔ایسا ہی قرآن شریف میں ایک اور جگہ آیا ہے کہ لَو كَانَ فِيهِمَا الهة الا اللهُ لَفَسَدَنَا (الانبیاء : ۲۳) اگر زمین و آسمان کے اندر اللہ کے سوائے کوئی اور معبود ہوتا تو ان میں فساد مچ جاتا۔فساد کی دوری اس سے ہے کہ ان میں توحید قائم کی جاوے۔۱۴-سورۃ المانعة: حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ شب معراج میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی کم کو مخاطب کر کے فرمایا کہ میں نے تجھے سورۃ اخلاص عطا کی ہے جو عرش کے خزانوں کے ذخیروں میں سے ہے۔اور عذاب قبر سے روکتی ہے۔۱۵- سورة المحضرة: کیونکہ اس کے پڑھنے کے وقت فرشتے اس کے سننے کے لئے حاضر ہوتے ہیں۔١٦- سورة المنفرة: کیونکہ شیطان اسے سُن کر بھاگ جاتا ہے۔۱۷- سورۃ البراءة: کیونکہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو جو یہ سورۃ پڑھتا تھا فرمایا کہ تو آگ سے بری ہو گیا۔۱۸- سورة المذكرة: کیونکہ یہ سورۃ انسان کو خدا تعالیٰ کی توحید یاد دلاتی ہے اور غفلت سے نکالتی ہے۔