صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 495
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۹۵ ۶۵ کتاب التفسير / قل هو الله احد اللہ تعالیٰ کی توحید کا اور صفات اضافیہ اور سلبیہ کا ذکر ہے اور سوائے خدا تعالیٰ کے جلال کے بیان کے اور کسی امر کا اس سورہ شریفہ میں ذکر نہیں ہے۔جو کوئی اس کے بیان پر پورا ایمان رکھے وہ اللہ کے دین میں مخلص ہے۔۵-سورۃ النجاۃ: کیونکہ اس پر پورا ایمان لانے سے اور اسی یقین پر مرنے سے کہ خدا ایک ہے انسان نجات پاتا ہے اور دوزخ سے بچتا ہے۔برخلاف اس کے عیسائیوں نے نجات اس میں سمجھی ہے کہ خدا تین بنائے جائیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کارڈ کیا ہے کہ نجات اس میں ہے کہ خدا تعالیٰ کو ایک مانا جاوے۔4 - سورة الولاية: کیونکہ یہ سورۃ پورے علم اور عمل اور معرفت کا ذریعہ ہو کر انسان کو درجہ ولایت تک پہنچا دیتی ہے۔- سورة النسبة: کیونکہ اس سورۃ کے شانِ نزول میں ذکر ہے کہ کفار نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا کہ آپ کے معبود کا نسب نامہ کیا ہے۔تب یہ سورۃ نازل ہوئی۔- سورة المعرفة: کیونکہ اللہ تعالیٰ کی معرفت اسی کلام کی معرفت کے ساتھ کامل ہوتی ہے۔جابر کی روایت ہے کہ ایک شخص نے نماز پڑھی اور نماز میں قُلْ هُوَ اللهُ احد کی سورۃ پڑھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ هَذَا عَرَفَ رَبَّه بیشک اس شخص نے اپنے رب کو پہچان لیا۔اس سے سورۃ کا نام سورۃ المعرفہ ہو گیا۔9- سورة الجمال: حدیث شریف میں آیا ہے۔اِنَّ اللهَ جَمِيلٌ وَيُحِبُّ الْجَمَالَ اللہ تعالیٰ کے جمال کے متعلق جب سوال کیا گیا تو جواب ملا کہ وہ احد، حمد، لَم يَلِدُ وَلَمْ يُولَدُ ہے۔١٠- سورة المقشقشة: مقشقشہ کے معنے ہیں بری کرنے والا۔جب کوئی بیمار شفا پاتا ہے تو اہلِ عرب کہتے ہیں تَفَشَفَضَ الْمَرِيضُ عَمَّا بِہ بیمار نے اس سے نجات پائی جس میں وہ گرفتار تھا چونکہ یہ سورۃ شرک اور نفاق سے انسان کو بری کر کے خدا تعالیٰ کا خالص بندہ بنادیتی ہے۔اس واسطے اس کا نام مقشقشہ رکھا گیا ہے۔السورة المعوّذه: کیونکہ ایک دن حضرت رسول کریم صلی ا نام عثمان بن مظعون کے