صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 494
صحیح البخاری جلد ۱۲ وم و سوم - -۶۵ کتاب التفسير / قل هو الله احد سے محبت رکھتا ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حُبُّكَ إِيَّاهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّة اس کی محبت تجھے بہشت میں داخل کر دے گی۔ایسا ہی اور بہت سی حدیثوں میں اس سورہ شریفہ کی تعریف آتی ہے کہ یہ قرآن کریم کے تیسرے حصہ کے برابر ہے۔اور اس کے پڑھنے کے بڑے بڑے فوائد ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سورہ شریفہ میں خالصتا اللہ تعالیٰ کی توحید کا ذکر ہے اور تمام انبیاء اور رسول جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوتے ہیں ان کی بعثت کا اصل منشاء یہی ہوتا ہے کہ توحید الہی کو دنیا میں قائم کریں کہ ایک خدا کی عبادت میں مخلوق کو لگا دیں۔“ ( حقائق الفرقان جلد ۴ صفحه ۵۵۷) نیز فرمایا: ”اس سورۃ کے فضائل میں سے ایک یہ بھی حدیث صحیح سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ سورۃ ثواب میں قرآن شریف کے تیسرے حصہ کے برابر ہے۔یہ بات بالکل سچی اور بہت ہی کچی ہے۔اس واسطے کہ قرآن شریف مشتمل ہے اللہ تعالیٰ کی ذات صفات کے مضامین، دنیوی امور یعنی اخلاقی، معاشرتی، تمدنی اور پھر بعد الموت یعنی قیامت کے متعلقہ مضامین پر۔اس سورۃ میں چونکہ اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کی ذات کے متعلق ہی ذکر ہے۔اسی طرح سے بلحاظ تقسیم مضامین یہ سورۃ قرآن شریف کے ۱/۳ کے برابر ہے یعنی قرآن کریم کے تین اہم اور ضروری مضامین میں سے ایک مضمون کا ذکر اس سورۃ میں کیا گیا ہے۔“ (حقائق الفرقان جلدم صفحہ ۵۵۹) حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے اس سورۃ کے بعض نام بیان فرمائے ہیں جن میں اس سورۃ کے فضائل بیان کیے گئے ہیں۔ا - سورۃ التفريد: کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ایک اور فرد ہونے اور تثلیث وغیرہ کی تردید میں ہے۔۲- سورۃ التجرید: کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ایک اور لاثانی ہونے کا اس میں بیان ہے۔۳-سورۃ التوحید: کیونکہ توحید کا ایساواضح بیان کسی دوسری کتاب میں نہیں ہے۔- سورۃ الاخلاص اور یہ نام زیادہ تر مشہور ہے۔کیونکہ اس سورۃ میں خالص