صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 491
حيح البخاری جلد ۱۲ : ۴۹۱ ۲۵ - كتاب التفسير / تبت يدا أبي لهب شريح : وَامَرَاتُه حَمَّالَةَ الْلخطیب : اور اس کی بیوی بھی جو ایندھن اٹھائے پھرتی ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”حضرت ابو رافع فرماتے ہیں کہ میں عباس بن عبد المطلب کا غلام تھا اور ہمارے گھر میں اسلام داخل ہو چکا تھا کیونکہ حضرت عباس مسلمان ہو چکے تھے۔اور ام فضل بھی اسلام میں داخل ہو گئی تھی۔اور میں بھی مسلمان ہو گیا تھا لیکن ہم لوگ قوم سے ڈرتے تھے۔اور عام طور پر اپنے اسلام کو ظاہر نہ کرتے تھے کہ زمانہ ابتدائی تھا اور لوگ سخت دُکھ دیتے تھے۔جنگ بدر کے موقعہ پر ابو لہب خود نہ گیا تھا۔بلکہ اپنی جگہ دو آدمیوں کو بھیج دیا تھا۔جب خبر آئی کہ جنگ بدر میں مسلمانوں کی فتح ہوئی تو ہمیں قوت پیدا ہوئی اور ہم بہت خوش ہوئے۔میں اور اہم فضل ایک جگہ بیٹھے تھے۔اوپر سے ابو لہب آیا اور وہ بھی بیٹھ گیا۔اتنے میں ابو سفیان جنگ سے واپس آیا۔ابو لہب نے اس سے جنگ کی کیفیت پوچھی۔ابوسفیان نے منجملہ اور باتوں کے بیان کیا کہ عجیب بات ہے کہ ہمارے مقابلہ میں کچھ گورے رنگ کے سوار بھی تھے۔جو آسمان اور زمین کے درمیان میں تھے۔میں نے کہا وہ خدا کے فرشتے تھے۔میرا یہ کہنا تھا کہ ابو لہب اٹھا اور مجھے مارنے لگا لیکن اتم فضل نے مجھے چھڑایا اور ابو لہب کو مارا اور لعنت ملامت کی اس کے سات دن بعد اس کے ہاتھ پر ایک پھوڑا نکلا اور اسی سے مر گیا۔“ ( حقائق الفرقان جلد ۴ صفحه ۵۴۴) حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بخاری شریف میں آیا ہے: قَالَ مُجَاهِدُ حَمَّالَةَ الْحَطَّبِ (اللهب: ۵) تمشى بِالنَّمِيمَةِ - حَمَّالَةَ الْخَطب وہ ہے جو چغل خوری کرتی پھرتی ہے۔کہتے ہیں، اس کی عادت تھی کہ گھر میں جلانے کے واسطے لکڑیاں خود جنگل میں جا کر چھنتی تھی اور اکٹھی کر کے خود اٹھا کر لاتی تھی۔اس واسطے بھی اس کا نام حمالة الحطب تھا اور آنحضرت کے ساتھ ایسی دشمنی رکھتی تھی کہ جنگل سے کانٹے اور خس و خاشاک اکٹھے کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر آپ کے راستہ میں بچھا دیتی تھی۔تاکہ آپ کو تکلیف پہنچے اور رات کو جب آپ نماز کے واسطے باہر جائیں تو