صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 492
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۹۲ ۲۵ - كتاب التفسير / تبت يدا أبي لهب آپ کو کانٹوں کے سبب تکلیف ہو۔لکھا ہے کہ جب یہ سورۃ نازل ہوئی اور اس کو خبر لگی کہ میرے اور میرے خاوند کے حق میں اس قسم کے الفاظ آنحضرت نے سنائے ہیں تو بڑی شوخی اور بے باکی کے ساتھ ایک رستی ہاتھ میں لئے آنحضرت کے پاس آئی اور اس طرح کہتی آتی تھی مُذَقَهَا آبَيْنَا دِيْنَهُ قَلَيْنَا وَأَمْرَهُ عَصَيْنَا ہم نے ایک مذمت کئے گئے کا انکار کیا اور اس کے دین کو ہم نے نا پسند کیا اور اس کے حکم کی ہم نے نافرمانی کی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دشمن نابکار بجائے محمد کے مدمم کہا کرتے تھے۔محمد کے معنے ہیں تعریف کیا گیا اور مذمم کے معنے ہیں مذمت کیا گیا۔نابکار دشمن ہمیشہ اس قسم کی شرارتیں کیا کرتے تھے۔جیسا کہ آجکل کے بیوقوف مخالف لفظ قادیانی کو کادیانی لکھ کر ایک احمقانہ خوشی اپنے واسطے پیدا کر لیتے ہیں مگر ایسی باتوں سے کیا ہو سکتا تھا۔جس کو خدا تعالیٰ عزت دینا چاہتا ہے اس کو ذلیل کرنے کے واسطے کوئی ہزار ناک رگڑے اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔“ حقائق الفرقان جلد ۴ صفحه ۵۴۶٬۵۴۵) حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لکھا ہے کہ ایک دفعہ یہ عورت اسی طرح لکڑیوں کا بڑا گٹھا اٹھا کر جنگل سے لاتی تھی۔راستہ میں ایک پتھر پر گٹھا ٹکا کر اور پشت لگا کر آرام لینے کے واسطے ٹھیر گئی تو وہی گٹھا پتھر سے نیچے کھسک کر لٹکنے لگا۔اس کے بوجھ سے گردن کی رسی سخت ہو کر اسے جہنم واصل کر گئی۔ایسی بدکاروں کا یہی انجام ہوتا ہے۔خواہ وہ اپنے ملک اور قوم میں معزز ہی ہوں مگر اللہ تعالیٰ کے رسول کی عداوت انسان کو سخت نقصان میں ڈال دیتی ہے۔اور اگلے پچھلے تمام عمل ضائع ہوتے ہیں۔“ حقائق الفرقان جلد ۴ صفحه ۵۴۶، ۵۴۷)