صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 490
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۵ - كتاب التفسير / تبت يدا أبي لهب دعوت کا انتظام کرو۔“ چنانچہ آپ کے رشتہ دار پھر جمع ہوئے اور آپ نے انہیں یوں مخاطب کیا کہ ”اے بنو عبد المطلب! دیکھو میں تمہاری طرف وہ بات لے کر آیا ہوں کہ اس سے بڑھ کر اچھی بات کوئی شخص اپنے قبیلہ کی طرف نہیں لایا۔میں تمہیں خُدا کی طرف بلاتا ہوں۔اگر تم میری بات مانو تو تم دین و دنیا کی بہترین نعمتوں کے وارث بنو گے۔اب بتاؤ اس کام میں میرا کون مدد گار ہو گا؟ سب خاموش تھے اور ہر طرف مجلس میں ایک سناٹا تھا کہ یکلخت ایک طرف سے ایک تیرہ سال کا دبلا پتلا بچہ جس کی آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا اُٹھا اور یوں گویا ہوا۔گو میں سب میں کمزور ہوں اور سب میں چھوٹا ہوں مگر میں آپ کا ساتھ دوں گا۔“ یہ حضرت علی کی آواز تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کے یہ الفاظ ننے تو اپنے رشتہ داروں کی طرف دیکھ کر فرمایا: ”اگر تم جانو تو اس بچے کی بات سُنو اور اسے مانو۔حاضرین نے یہ نظارہ دیکھا تو بجائے عبرت حاصل کرنے کے سب کھل کھلا کر ہنس پڑے اور ابو لہب اپنے بڑے بھائی ابو طالب سے کہنے لگا: ”لو آب محمد تمہیں یہ حکم دیتا ہے کہ تم اپنے بیٹے کی پیروی اختیار کرو۔اور پھر یہ لوگ اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کمزوری پر جنسی اُڑاتے ہوئے رُخصت ہو گئے “ اے (سیرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم، مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد ایم اے، صفحہ ۱۴۶،۱۴۵) بَاب ٤ : وَامْرَآتُه حَمَّالَةَ الْحَطب (اللهب: ٥) اور اس کی بیوی بھی جو ایندھن اٹھائے پھرتی ہے 66 وَقَالَ مُجَاهِدٌ حَمَّالَةَ الحطب ( اللهب : ٥) اور مجاہد نے کہا: حَمَّالَةَ الحطب سے مراد ہے تَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ فِي جِيْدِهَا حَبْل چغلی کھاتی پھرتی ہے۔فِي جِيْدِهَا حَبْلُ مِنْ مَسَدٍ مِّنْ مَّسَد ( اللهب : ٦) يُقَالُ : مِنْ قَسَد کے معنی ہیں: اس کے گلے میں کھجور کی رسی ہے۔( اللهب: ٦) لِيفِ الْمُقْلِ وَهِيَ السّلْسِلَةُ مِنْ مَّسَد : منقل کے درخت کی چھال کو بھی کہتے الَّتِي فِي النَّارِ۔ہیں اور یہ بھی ایک زنجیر ہے جو آگ میں ہوگی۔(تاريخ الطبري، القول فى السيرة النبوية، ذكر الخبر عما كان من أمر نبی الله جزء الثانی صفحہ ۳۲۱) گوگل، کھجور کے مشابہہ ایک جنگلی درخت ہے۔(قاموس الوحید۔مقل)