صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 489 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 489

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۸۹ ۶۵ - کتاب التفسير / تبت يدا أبي لهب بعثت نبوی پر قریباً تین سال گزر چکے تھے اور اب چوتھا سال شروع تھا کہ الہی حکم نازل ہوا کہ فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ ( الحجر : ۹۵) یعنی اے رسول ! جو حکم تجھے دیا گیا ہے وہ کھول کھول کر لوگوں کو منادے۔ اور اس کے قریب ہی یہ آیت اتری کہ و انذار عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ (الشعراء: ۲۱۵) یعنی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار و بیدار کر۔ جب یہ احکام اُترے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوہ صفا پر چڑھ گئے اور بلند آواز سے پکار کر اور ہر قبیلہ کا نام لے لے کر قریش کو بلایا۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے۔ تو آپؐ نے فرمایا: "اے قریش ! اگر میں تم کو یہ خبر دوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک بڑا لشکر ہے جو تم پر حملہ کرنے کو تیار ہے تو کیا تم میری بات کو مانو گے؟ بظاہر یہ ایک بالکل نا قابل قبول بات تھی مگر سب نے کہا: ”ہاں ہم ضرور مانیں گے کیونکہ ہم نے تمہیں ہمیشہ صادق القول پایا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: تو پھر سنو! میں تم کو خبر دیتا ہوں کہ اللہ کے عذاب کا لشکر تمہارے قریب پہنچ چکا ہے۔ خُدا پر ایمان لاؤ تا اس عذاب سے بچ جاؤ۔“ جب قریش نے یہ الفاظ سنے تو کھیل کھلا کر ہنس پڑے اور آپ کے چچا ابو لہب نے آپؐ سے مخاطب ہو کر کہا: تَبَّا لَكَ الهُذَا جَمَعْتَنَا " محمد تو ہلاک ہو۔ کیا اس غرض سے تو نے ہم کو جمع کیا تھا ؟“ پھر سب لوگ ہنسی مذاق کرتے ہوئے منتشر ہو گئے۔ ہے۔ انہی دنوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے ارشاد فرمایا کہ ایک دعوت کا انتظام کرو اور اس میں بنو عبد المطلب کو بلاؤ تا کہ اس ذریعہ سے اُن تک پیغام حق پہنچایا جاوے۔ چنانچہ حضرت علی نے دعوت کا انتظام کیا اور آپ نے اپنے سب قریبی رشتہ داروں کو جو اس وقت کم و بیش چالیس نفوس تھے اس دعوت میں بلایا۔ جب وہ کھانا کھا چکے تو آپ نے کچھ تقریر شروع کرنی چاہی مگر بد بخت ابو لہب نے کچھ ایسی بات کہہ دی جس سے سب لوگ منتشر ہو گئے۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ ”یہ موقع تو جاتا رہا اب پھر (صحیح البخاری، کتاب المناقب، باب من انتسب إلى آبائه في الاسلام والجاهلية) (تاريخ الطبري، القول فى السيرة النبوية، ذكر الخبر عما كان من أمر نبي ۔۔۔ جزء ۲ صفحه ۳۱۹ تا ۳۲۱) (تاريخ الخميس، الركن الثانى، ذكر ما وقع فى السنة الثانية والثالثة من النبوة ، جزء الاول صفحه ۲۸۷، ۲۸۸)