صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 488
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۸۸ ۶۵ - کتاب التفسير / تبت يدا أبي لهب عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْبَطْحَاءِ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بطحاء کی فَصَعِدَ إِلَى الْجَبَلِ فَنَادَى يَا صَبَاحَاهُ طرف نکلے اور پہاڑ پر چڑھ گئے اور (بلند آواز فَاجْتَمَعَتْ إِلَيْهِ قَرَيْشٍ فَقَالَ أَرَأَيْتُمْ ) يا صباحاہ پکارنے لگے۔ یہ سن کر قریش آپ إِنْ حَدَّثْتُكُمْ أَنَّ الْعَدُوَّ مُصَبِّحُكُمْ أَوْ کے پاس اکٹھے ہوئے۔ آپ نے فرمایا: بتلاؤ تو سہی مُمَسِّيكُمْ أَكُنْتُمْ تُصَدِّقُونِي قَالُوا نَعَمْ اگر میں تم سے یہ کہوں کہ دشمن تم پر صبح کو یا شام کو چھاپا مارنے والا ہے کیا تم مجھ کو سچا سمجھو گے؟ قَالَ فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: میں تم کو سخت شَدِيدٍ فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ أَلِهَذَا جَمَعْتَنَا تَبًّا لَكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَبَّتْ عذاب کے آنے سے پیشتر ہی ڈرائے دیتا ہوں۔ ابو لہب نے یہ سن کر کہا: کیا اس لئے تم نے ہمیں يَدَا أَبِي لَهَبٍ (اللهب: ٢) إِلَى آخِرِهَا ۔ اکٹھا کیا تھا ؟ تم پر تباہی۔ تب اللہ عز و جل نے یہ سورۃ آخر تک نازل کی تَبَّتْ يَدَا أَبي لَهَبٍ۔ أطرافه: ١٣٩٤، ٣٥٢٥، ٣٥٢٦، ٤٧٧٠، ٤٨٠١، ٤٩٧١ ، ٤٩٧٣۔ باب : قَوْلُهُ سَيَصْلَى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ (اللهب : ٤) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: وہ ضرور آگ میں پڑے گا جو ( اسی کی طرح) شعلے مارنے والی ہو گی ٤٩٧٣ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ۴۹۷۳ عمر بن حفص بن غیاث) نے ہم سے حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ حَدَّثَنِي بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ہم سے بیان کیا کہ عمرو بن مرہ نے مجھے بتایا۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ اُنہوں نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ابو لہب أَبُو لَهَبٍ تَبَّا لَكَ أَلِهَذَا جَمَعْتَنَا نے کہا: تم پر تباہی ہو ، کیا اس لیے تم نے ہمیں فَنَزَلَتْ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ (اللهب : ۲) اکٹھا کیا تھا۔ اس وقت یہ سورۃ نازل ہوئی تبت يَدَا أَبِي لَهَبٍ - أطرافه: ١٣٩٤، ٣٥٢٥، ۳٥٢٦ ، ٤۷۷۰، ٤٨٠١، ٤٩٧١ ، ٤٩٧٣۔ تشریح : سَيَصْلَى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ: حضرت مرزا بشیر احمد ایم اے رضیاللہعنہ فرماتے ہیں: یہ ابتدائی زمانہ اسی طرح خاموش اور خفیہ تبلیغ میں گزر رہا تھا اور