صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 487 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 487

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۸۷ ۲۵ - كتاب التفسير / تبت يدا أبي لهب مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ سے قریبی رشتہ داروں کو ڈرا یعنی اپنے قبیلہ میں سے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى صَعِدَ چنیدہ کو ، نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الصَّفَا فَهَتَفَ يَا صَبَاحَاهُ فَقَالُوا مَنْ باہر گئے اور صفا پر چڑھے اور یا صَبَاحَاہ زور سے هَذَا فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ فَقَالَ أَرَأَيْتُمْ إِنْ پکارا۔لوگوں نے کہا: یہ کون ہے ؟ اور سن کر سب أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا تَخْرُجُ مِنْ سَفْحِ آپ کے پاس جمع ہو گئے۔آپ نے فرمایا: بتاؤ تو هَذَا الْجَبَل أَكُنْتُمْ مُصَدِقِيَّ قَالُوا مَا سہی اگر میں تم کو یہ خبر دوں کہ کچھ سوار اس پہاڑ جَرَّبْنَا عَلَيْكَ كَذِبًا قَالَ فَإِنِّي نَذِيرٌ کے دامن سے نکل کر حملہ کریں گے کیا تم مجھے سچا لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابِ شَدِيدٍ قَالَ سمجھو گے؟ انہوں نے کہا: ہم نے آپ کے متعلق أَبُو لَهَبٍ تَبَّا لَكَ مَا جَمَعْتَنَا إِلَّا کبھی جھوٹ کا تجربہ نہیں کیا۔آپ نے فرمایا: تو پھر لِهَذَا ثُمَّ قَامَ فَنَزَلَتْ تبت یدا میں تمہیں ایک سخت عذاب کے آنے سے پیشتر ابِي لَهَبٍ وتَبَّ ( اللهب : ٢) وَقَدْ تَب ہی آگاہ کیسے دیتا ہوں۔ابولہب نے کہا: تم پر تباہی! صرف اس لئے تم نے ہمیں اکٹھا کیا تھا۔پھر اُٹھ کر هَكَذَا قَرَأَهَا الْأَعْمَسُ يَوْمَئِذٍ۔چل دیا اور یہ آیت نازل ہوئی: تبت یدا یعنی ابو لہب کے دونوں ہاتھ تباہ ہو گئے اور وہ خود بھی تباہ ہو گیا۔اعمش نے اس دن یوں پڑھا: وَقَد تب یعنی وہ خود بھی تباہ ہو گیا۔أطرافه ١٣٩٤، ۳۲٥، ۳۵۲۶، ٤۷۷۰، ٤٨٠، ٤٩٧٢ ، ٤٩٧٣۔باب ۲ : وَتَب مَا أَغْنى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ (اللهب: ٢، ٣) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا): وہ خود بھی تباہ ہوا اس کا مال اور جو کچھ بھی اس نے کمایا اس کے کام نہ آیا ٤٩٧٢: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ :۴۹۷۲ محمد بن سلام نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ ابو معاویہ نے ہمیں خبر دی کہ اعمش نے ہم سے عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ بیان کیا۔اعمش نے عمرو بن مرہ سے، عمرو نے عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله سعيد بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس