صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 486
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۸۶ ۲۵ - كتاب التفسير / تبت يدا أبي لهب ۱۱۱ - سُورَةُ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ اللہ کے نام کے ساتھ جو رحمن اور رحیم ہے تَبَابٌ خُسْرَانٌ، تَثْبِيبٌ تَدْمِيرٌ۔تباب کے معنی ہیں گھانا۔تثبیب کے معنی ہیں تباہ کرنا۔تشریح شد : سُورَةُ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَ تَب: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "سورۃ لہب میں سورۃ نصر کے مضمون کو مکمل کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ صرف یہی نہیں ہو گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد فتوحات کے دروازے کھلتے چلے جائیں گے اور اسلام غالب ہو جائے گا بلکہ اگر کسی نے اسلام کو مٹانے کے لیے اس پر حملہ کیا تو اللہ تعالیٰ اس حملہ آور کو تباہ کر دے گا نہ صرف اس کو بلکہ ان کو بھی جو اس حملہ آور کی تائید میں ہوں گے۔ایسے لوگ جو اسلام کے خلاف حملہ آور ہونے والے تھے ان کو اس سورۃ میں ابو لہب کے نام سے پکارا ہے اور ان کو جو ایسے لوگوں کی تائید میں ہوں گے بیوی کے لفظ سے تعبیر کیا ہے گویا ابو لہب سے مراد ائمہ کفر ہیں اور اس کی بیوی سے مراد ان کے اتباع۔“ ( تفسیر کبیر ، سورۃ اللہب، جلد ۱۰ صفحه ۴۹۶) مفردات امام راغب میں لکھا ہے : اللبُ والثَّبَابُ الإِسْتِرَارُ فِى الخُسْرَانِ یعنی التَّبُ والتَّبَابُ (جو تب فعل کے مصدر ہیں) کے معنی ہیں ہمیشہ گھاٹا اُٹھانا۔اور تبت یدا ابی لھب کے معنی ہیں اسْتَمَرَّت في خُسْرَانِهِ۔ابو لہب کے دونوں ہاتھ ضرور نقصان اٹھائیں گے۔(المفردات فی غریب القرآن، کتاب التاء ، تب) باب ۱ ٤٩٧١ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى :۴۹۷۱ یوسف بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ ابو اسامہ نے ہمیں بتایا: اعمش نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ کہ عمرو بن مرہ نے ہمیں بتایا۔عمرو نے سعید بن جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا جبیر سے ، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ وَاَنْذِرُ عَشِيرَتَكَ سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ جب یہ آیت الْأَقْرَبِينَ (الشعراء : ٢١٥) وَرَهْطَكَ وَانْذِرُ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ یعنی اور تو اپنے سب