صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 485
حیح البخاری جلد ۱۲ ۶۵ ۴۸۵ -٦ كتاب التفسير / اذا جاء نصر الله ب ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ عُمَرُ يُدخِلْنِى مَعَ أَشْيَاخ بَدُرٍ : حضرت عبد اللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چا حضرت عباس اور حضرت ام فضل کے بیٹے تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ کی بہن تھیں حضرت ام فضل حضرت خدیجہ کے بعد عورتوں میں سب سے پہلے ایمان لائیں۔حضرت عباس سن آٹھ ہجری میں فتح مکہ سے کچھ عرصہ پہلے مسلمان ہوئے اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ پہنچے۔حضرت عبد اللہ کی عمر اس وقت گیارہ برس تھی۔اپنی خالہ حضرت میمونہ کے گھر اکثر جانے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور آپ کے ساتھ نمازیں پڑھنے کی سعادت ملتی رہی۔آپ کے علم وفضل کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا اعجاز ہے جو آپ نے کئی مواقع پر حضرت عبد اللہ کے لیے کی۔بخاری کی ایک روایت میں ذکر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد اللہ کو اپنے سینے سے لگایا اور یہ دعا کی: اللَّهُمَّ عَلَمُهُ الحِكْمَةَ۔ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں اللّهُمَّ عَلَمُهُ الكِتاب۔(بخاری، کتاب المناقب، باب ذکر ابن عباس رضی الله عنهما، روایت نمبر ۳۷۵۶)