صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 484 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 484

صحیح البخاری جلد ۱۲ فَمَا ۴۸۴ ۶۵ - كتاب التفسير / اذا جاء نصر الله سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس كَانَ عُمَرُ يُدْخِلُنِي مَعَ أَشْيَاخِ بَدْرٍ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: حضرت عمرؓ مجھے ان فَكَأَنَّ بَعْضَهُمْ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ فَقَالَ بڑی عمر کے صحابہ کے ساتھ گھر میں بلایا کرتے تھے لِمَ تُدْخِلُ هَذَا مَعَنَا وَلَنَا أَبْنَاءً مِثْلُهُ جو بدر میں شریک تھے ان میں سے کسی نے اپنے نفس فَقَالَ عُمَرُ إِنَّهُ مِنْ حَيْثُ عَلِمْتُمْ میں بُرا منایا اور کہا: آپ اس کو ہمارے ساتھ کیوں بلاتے ہیں؟ حالانکہ ہمارے بھی اس جیسے بیٹے ہیں فَدَعَا ذَاتَ يَوْمٍ فَأَدْخَلَهُ مَعَهُمْ حضرت عمرؓ نے فرمایا: یہ اس حیثیت کا ہے جو تم جانتے رُئِيتُ أَنَّهُ دَعَانِي يَوْمَئِذٍ إِلَّا لِيُرِيَهُمْ ہو حضرت عمر نے ایک دن بلایا اور حضرت ابن عباس قَالَ مَا تَقُولُونَ فِي قَوْلِ اللهِ تَعَالَى کو بھی ان کے ساتھ اندر بلایا۔میں یہی سمجھتا ہوں کہ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ فَقَالَ آپ نے جو مجھے اس دن بلایا تو محض اس لئے کہ ان کو بَعْضُهُمْ أُمِرْنَا نَحْمَدُ اللهَ وَنَسْتَغْفِرُهُ دکھلا ئیں۔حضرت عمرؓ نے پوچھا کہ تم اللہ تعالیٰ کے إِذَا نُصِرْنَا وَفُتِحَ عَلَيْنَا وَسَكَتَ اس قول یعنی ”جب اللہ کی نصرت اور فتح آجائے“ بَعْضُهُمْ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا فَقَالَ لِي کے متعلق کیا سمجھتے ہو ؟ تو ان میں سے بعض نے کہا: أَكَذَاكَ تَقُولُ يَا ابْنَ عَبَّاسِ فَقُلْتُ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اللہ کی حمد بیان کریں اور لَا قَالَ فَمَا تَقُولُ قُلْتُ هُوَ أَجَلْ اس سے مغفرت کی دعا کریں، جب ہمیں نصرت اور رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فتح ہو اور ان میں سے بعض خاموش رہے اور کچھ نہ أَعْلَمَهُ لَهُ قَالَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ کہا۔پھر انہوں نے مجھے فرمایا: ابن عباس کیا تم بھی (النصر: ٢) وَذَلِكَ عَلَامَهُ أَجَلِكَ فَسَبِّحْ اِس طرح کہتے ہو ؟ میں نے کہا: نہیں۔انہوں نے فرمایا: پھر تم کیا کہتے ہو ؟ میں نے کہا: رسول اللہ صلی ال وتم بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَايَّا کی وفات مراد ہے جس سے اللہ نے آپ کو آگاہ کیا۔إِلَّا مَا تَقُولُ۔(النصر: ٣) فَقَالَ عُمَرُ مَا أَعْلَمُ مِنْهَا الله تعالیٰ نے فرمایا کہ جب اللہ کی نصرت اور فتح آ جائے تو یہ تمہاری وفات کی علامت ہے۔اس لئے تو اپنے رب کی حمد سے تسبیح بیان کر اور اس سے مغفرت مانگ کیونکہ وہ تو آب ہے۔حضرت عمر نے یہ سن کر فرمایا: میں بھی اس سے یہی سمجھتا ہوں جو تم کہتے ہو۔أطرافه: ٣٦٢٧، ٤٢٩٤، ٤٤٣٠، ٤٩٦٩۔