صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 483 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 483

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۸۳ ۶۵ - كتاب التفسير / اذا جاء نصر الله باب : قَوْلُهُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا (النصر : ٣) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اور جب تو لوگوں کو دیکھے کہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں ٤٩٦٩ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ :۴۹۶۹: عبد اللہ بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عبد الرحمن بن مہدی) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سفیان ثوری) سے، سفیان نے حبیب بن ابی جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ ثابت سے، حبیب نے سعید بن جبیر سے، سعید اللهُ عَنْهُ سَأَلَهُمْ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى اِذَا نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ حضرت جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ (النصر : ۲) قَالُوا عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول یعنی جب اللہ کی مدد اور کامل غلبہ آجائے گا، فَتْحُ الْمَدَائِنِ وَالْقُصُورِ قَالَ مَا تَقُولُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ أَجَلٌ أَوْ مَثَلٌ ضُرِبَ شہروں اور محلات کا فتح کیا جاتا ہے۔حضرت عمرؓ نے لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُعِيَتْ (مجھ سے) کہا: ابنِ عباس تم کیا کہتے ہو ؟ انہوں نے کہا: یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہے یا مثال ہے لَهُ نَفْسُهُ۔کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: اس سے مراد جو آپ کے لئے بیان کی گئی جس میں آپ کو آپ کی وفات کی خبر دی گئی ہے۔أطرافه: ٣٦٢٧، ٤٢٩٤، ٤٤٣٠، ٤٩٧٠۔باب ٤ : قَوْلُهُ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرُهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا (النصر : ٣) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اپنے رب کی حمد سے تسبیح بیان کر اور اس سے مغفرت مانگ کیونکہ وہ تو اب یعنی بندوں کی توبہ قبول کرنے والا ہے۔تَوَّابٌ عَلَى الْعِبَادِ، وَالتَّوَّابُ تو اب کے معنی ہیں بندوں کی توبہ قبول کرنے والا مِنَ النَّاسِ التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ۔اور لوگوں میں سے تو اب وہ ہے جو گناہ سے رجوع کرے۔٤٩٧٠ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ :۴۹۷۰ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابوبشر سے ، ابوبشر