صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 482 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 482

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۸۲ ۶۵ - كتاب التفسير / اذا جاء نصر الله تشریح : سُورَةُ إِذَا جَاءَ لَه إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ : حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ را رین ولی اللہ شاہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سورۃ النصر میں ہدایت کی گئی ہے کہ جب نصرت و فتح حاصل ہو تو بجائے " عجیب و غرور کے عجز و نیاز کا سر آستانہ الہی پر جھکے اور مغفرت طلب کی جائے کہ فتح و ظفر اپنے ساتھ موجبات تکبر و غرور اور خود پسندی اور اسباب تعیش و غفلت اور کج روی لانے والے ہوتے ہیں۔ ان کمزوریوں سے پناہ مانگی جائے۔ انه كان توابا ۔ ایسا کیا گیا تو اللہ تعالیٰ فتح و ظفر کے بڑے عواقب سے محفوظ رکھے گا اور اپنی رحمت سے نوازے گا۔ الفاظ انه كان توابا سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بار بار اپنی رحمت سے نوازتا رہے گا۔ تاب اللہ کے معنى رَجَعَ اللهُ بِرحمته الله نے اس کی طرف رجوع برحمت کیا۔ تو اب صیغہ مبالغہ ہے جس میں رحمت کے ساتھ بار بار رجوع کرنے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ ابن اسحاق نے غزوہ فتح مکہ کے تعلق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ کا ذکر کیا ہے کہ آپ نے عثمان بن طلحہ حاجب کعبہ سے چابی منگوائی اور کعبہ کھلوایا اور اس کے دروازہ میں کھڑے ہو کر قریش سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ مَا تَرَوْنَ أَنِّي فَاعِلٌ فِيْكُمْ ؟ قَالُوا خَيْرًا، أَنَّ كَرِيمٌ وَابْنُ أَجْ كَرِيمٍ قَالَ اذْهَبُوا فَأَنْتُمُ الطَّلَقَاءُ اے قریش کے لوگو! تمہارا کیا خیال ہے کہ میں تم سے کیا کرنے والا ہوں ؟ انہوں نے کہا: اچھا ہی کریں گے۔ شریف بھائی ہو۔ شریف بھائی کے بیٹے ہو۔ فرمایا: جاؤ تم آزاد ہو۔ یہ کہہ کر آپ بیٹھ گئے۔ اور ابن عائذ کی روایت میں ہے: عثمان کو چابی واپس دی اور فرمایا : خُذْهَا خَالِدَةً مُخَلَّدَةٌ إِنِّي لَمْ أَدْفَعْهَا إِلَيْكُمْ وَلَكِنَّ اللهَ دَفَعَهَا إِلَيْكُمْ وَلَا يَنْزِعُهَا مِنْكُمْ إِلَّا ظَالِمُ - چابی لو اور دعا کی کہ ) ہمیشہ ہمیش تمہارے پاس رہے۔ یہ میں نے تمہیں نہیں دی بلکہ اللہ La نے دی ہے۔ ظالم ہی تم سے چھینے گا۔ “۔ ( ترجمه و شرح صحیح بخاری، کتاب المغازی باب ۵۱، جلد نهم صفحه ۱۴۱، ۱۴۲) ل (السيرة النبوية لابن هشام، ذكر فتح مكة، طواف الرسول بالبيت و كلمته فيه جزء ۲ صفحه ۴۱۲) (فتح الباری جزء ۸ صفحه ۲۴)