صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 479
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۷۹ ۶۵ - كتاب التفسير / قل يأيها الكفرون ۱۰۹ - سُورَةُ قُلْ يَأَيُّهَا الْكَفِرُونَ يُقَالُ لَكُمْ دِينَكُمْ (الکافرون : ٧) الْكُفْرُ ۔ کہا جاتا ہے کہ لکم دینکم میں تمہارے دین سے وَلِي دِينِ (الكافرون : ٧) الْإِسْلَامُ، وَلَمْ مراد کفر ہے ۔ وکی دین میں دین سے مراد اسلام يَقُلْ دِينِي لِأَنَّ الْآيَاتِ بِالنُّونِ فَحُذِفَتْ ہے اور دینی نہیں کہا کیونکہ یہ تمام آیات نون سے الْيَاءُ كَمَا قَالَ يَهْدِينِ (الشعراء: (۷۹) و ختم ہوتی ہیں اس لئے یاء کو محذوف کیا گیا۔ جیسے يشفين (الشعراء: (۸۱) ۔ وَقَالَ غَيْرُهُ لا فرمایا: يَهْدِینِ اور کیشْفِينِ (جو اصل میں يَهْدِینی اعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ ( الكافرون : ٣) الآن، اور يَشْفینی تھا یعنی میری رہنمائی کرتا ہے اور مجھے وَلَا أُجِيبُكُمْ فِيمَا بَقِيَ مِنْ عُمُرِي وَ شِفا دیتا ہے۔) اور ان کے سوا اوروں نے کہا: لا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ یعنی میں اب بھی ان کو نہیں لا أَنْتُمْ عَبدُونَ مَا أَعْبُدُ ( الكافرون : ٤) وَهُمُ الَّذِينَ قَالَ وَلَيَزِيدَنَ كَثِيرًا مِنْهُمُ پوجتا جن کو تم پوجتے ہو اور اپنی ساری عمر جو باتی ہے تمہاری نہیں مانوں گا۔ وَلَا أَنْتُمْ عَبدُونَ مَّا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَكُفْرًا۔ ما اعْبُدُ یعنی نہ تم پوجنے والے ہو جس کو میں (المائدة : ٦٥) پوجتا ہوں اور یہ وہ لوگ مراد ہیں جن کے متعلق فرمایا: وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًا یعنی جو تمہارے رب کی طرف سے تجھ پر نازل کیا گیا ہے وہ ضرور ان میں سے بہتوں کو سرکشی اور کفر میں بڑھا دے گا۔ تشريح ۔ سُورَةُ قُلْ يَأَيُّهَا الكَفِرُونَ : علامہ بدر الدین عینی لکھتے ہیں کہ اس سورۃ کا ایک نام متفقسة بھی آیا ہے یعنی نفاق سے نجات دینے والی۔ اس کے ابتدائی مخاطبین اہل مکہ تھے بطورِ خاص ولید بن مغیرہ ، عاص بن وائل ، حارث بن قیس سہمی، اسود بن عبد يغوث، اسود بن عبد المطلب اور امیہ بن خلف۔ انہوں نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ ہمارے دین کی پیروی کریں ہم آپ کے دین کی پیروی کریں گے اور ہم آپ کو اپنے ہر امر میں شریک کریں گے۔ آپ ایک سال ہمارے معبودوں کی عبادت کریں ہم ایک سال آپ کے معبود کی عبادت کریں گے۔ فرمایا: معاذ اللہ کہ میں اللہ کے سوا کسی کو شریک بناؤں تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورہ نازل کی۔ (عمدۃ القاری جزء ۲۰ صفحه (۴) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اہم کام کے لیے استخارہ کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ اس کا طریق یہ ہے کہ