صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 480 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 480

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۸۰ ۶۵ - كتاب التفسير / قل يأيها الكفرون انسان دو نفل پڑھے اول رکعت میں سورۃ قُلْ يَأَيُّهَا الْکٰفِرُونَ پڑھ لے اور دوسری میں قُلْ هُوَ الله اور التحیات میں دعا کرے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: زید بن ارقم رفعاً کہتے ہیں کہ جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی ملاقات دو سورتیں ساتھ لے کر کی۔ اس سے کوئی حساب کتاب نہیں لیا جائے گا۔ وہ دو سورتیں کافرون اور قُلْ هُوَ اللهُ اللہ احد ہیں۔ اس حدیث شریف کا مطلب ظاہر ہے کہ سورۃ کافرون میں کفار اور ان کے کفر سے پوری بیزاری اور بے تعلقی ظاہر کی گئی ہے۔ اور سورۃ اخلاص میں خدا تعالیٰ کی توحید کا پورے طور پر اقرار کیا گیا ہے بدی کا ترک اور نیکی کا حصول۔ شیطان سے دوری اور خدا کا قرب۔ یہی دو باتیں ہیں جو کسی مذہب کا آخری نتیجہ ہو سکتی ہیں۔ جب یہ دونوں باتیں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کسی کو حاصل ہو جاویں۔ تو وہ اپنی منزل مقصود پر پہنچ گیا۔ اور اس کے واسطے کوئی حساب باقی نہیں رہا۔ ایک روایت میں ابن عمرؓ سے منقول ہے کہ یہ سورۃ ربع قرآن کے برابر ہے۔ کیا معنے یہ قرآن شریف کا چوتھا حصہ ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کلام پاک کے مضامین کا چہارم حصہ کفار اور ان کے کام سے بیزاری اور خداوند کی خالص عبادت کے بیان پر مشتمل ہے۔“ (حقائق الفرقان جلد ۴ صفحه ۵۱۲)