صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 28
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۸ باب ۱ ۶۵ - کتاب التفسير / حم السجدة وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَبْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ وَلَكِنْ ظَنَنْتُمْ أَنَّ اللهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيرًا مِمَّا تَعْمَلُونَ (اللہ تعالیٰ کا فرمانا :) اور تم ایسے نہیں ہو کہ اس سے پوشیدہ رہو کہ تمہارے بر خلاف تمہارے کان گواہی دیں اور نہ تمہاری آنکھیں اور نہ تمہاری جلدیں مگر تم نے یہ گمان کیا کہ اللہ جو اعمال تم کرتے ہو ان سے بہت کچھ نہیں جانتا۔( حم السجدۃ : ٢٣) ٤٨١٦ : حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ :۴۸۱۶ ملت بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ یزید حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ رَّوْحِ بْنِ بن زُریع نے ہمیں بتایا۔انہوں نے روح بن قاسم الْقَاسِمِ عَنْ مَّنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ سے، روح نے منصور سے، منصور نے مجاہد سے، أَبِي مَعْمَرٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَمَا كُنتُم مجاہد نے ابو معمر (عبد اللہ بن سخبرہ) سے، ابو معمر تَسْتَتِرُونَ أَن يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُم نے حضرت ابن مسعودؓ سے روایت کی۔وَمَا كُنتُم تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَبْعُكُمْ (يه ( حم السجدة : ٢٣) الْآيَةَ كَانَ رَجُلَانِ مِنْ قُرَيْشٍ وَحَتَنٌ لَّهُمَا مِنْ ثَقِيفَ جو آیت ہے اس کا موقع نزول یہ ہے کہ) قریش أَوْ رَجُلَانِ مِنْ ثَقِيفَ وَخَتَنْ لَّهُمَا مِنْ و کے دو آدمی تھے اور ان کی بیوی کا ایک رشتہ دار جو ثقیف قبیلہ سے تھا یا یہ دونوں آدمی ثقیف سے قُرَيْشٍ فِي بَيْتٍ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ تھے اور ان کی بیوی کا رشتہ دار قریش سے تھا (یہ أَتَرَوْنَ أَنَّ اللهَ يَسْمَعُ حَدِيثَنَا قَالَ تینوں ایک گھر میں تھے۔اُن میں سے ایک نے بَعْضُهُمْ يَسْمَعُ بَعْضَهُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ کسی سے کہا: کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ اللہ ہماری باتیں سن لَئِنْ كَانَ يَسْمَعُ بَعْضَهُ لَقَدْ يَسْمَعُ كُلَّهُ رہا ہے ؟ ان میں سے کسی نے کہا: بعض باتیں سنتا فَأُنْزِلَتْ وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ آن ہے۔اور اُن میں سے ایک نے کہا: اگر وہ کچھ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَبْعُكُم وَلا اَبْصَارُكُم باتیں سنتا ہے تو یقینا ساری بھی سنتا ہے۔تب یہ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ”اور تم (اس سے) چُھپ نہیں سکتے تھے کہ تمہارے خلاف تمہاری سماعت گواہی دے۔“