صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 27 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 27

صحیح البخاری جلد ۱۲ rz ۶۵ - کتاب التفسير / حم السجدة مجاہد نے تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلكَةُ کی وضاحت عِنْدَ الْمَوْتِ کے الفاظ سے کی ہے، یعنی فرشتے موت کے وقت اُن پر اترتے ہیں۔اس سے یہ سمجھنا کہ ملائکہ کا نزول صرف موت کے وقت ہی ہوتا ہے ، درست نہیں۔امام بخاری نے اس کی وضاحت متعد د ابواب میں کی ہے کہ مقربین الہی کو ملائکہ کی مصاحبت اس دُنیا میں بھی ملتی ہے اور آخرت میں بھی ملے گی۔(کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائكة) سنت اللہ یہی ہے کہ ربنا الله ( ہمارا رب اللہ ہے) کے دعویٰ پر استقامت دکھانے والوں پر ملائکۃ اللہ کا نزول ہوتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور استقامت کی ، اُن پر فرشتے اترتے ہیں۔مفسروں کی غلطی ہے کہ فرشتوں کا اتر نا نزع میں ہے، یہ غلط اللہ تعالیٰ نے یہ جو فرمایا کہ نَحْنُ اَولیوکم فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ ہے۔( حم السجدۃ: ۳۲) کہ ہم اس دنیا میں بھی اور آئندہ بھی متقی کے ولی ہیں۔سو یہ آیت بھی تکذیب میں اُن نادانوں کے ہے ، جنہوں نے اس زندگی میں نزولِ ملائکہ سے انکار کیا۔اگر نزع میں نزولِ ملائکہ تھا تو حیات الدنیا میں خدا تعالیٰ کیسے ولی ہوا۔“ (ملفوظات جلد اول صفحه ۱۰ تا ۱۲) نیز فرمایا: "روح القدس کے بارہ میں جو قرآن کریم میں آیات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ کے لئے کامل مومنوں کو روح القدس دیا جاتا ہے منجملہ ان کے ایک آیت ہے إِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيكَةُ الا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ أَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ في الحيوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ یعنی جو لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ جل شانہ ہے پھر اپنی ثابت قدمی دکھلاتے ہیں کہ کسی مصیبت اور آفت اور زلزلہ اور امتحان سے اُن کے صدق میں ذرہ فرق نہیں آتا اُن پر فرشتے اترتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ تم ذرا خوف نہ کرو اور نہ غمگین ہو۔اور اُس بہشت کے تصور سے شادان اور فرحان رہو جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے ہم تمہارے متولی اور تمہارے پاس ہر وقت حاضر اور قریب ہیں کیا دنیا میں اور کیا آخرت میں۔“ آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۹۷ تا۹۹)