صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 477 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 477

حیح البخاری جلد ۱۲ کمیت شاعر کہتا ہے: -۶۵ کتاب التفسير / إنا تعطينك الكوثر وَأَنْتَ كَثِيرُ يَا ابْنَ مَرْوَانَ طَيِّبٌ وَكَان أَبُوكَ ابْنَ الْفَضَائِلِ كَوْثَرَا اے ابن مروان تو کثیر ہے اور طیب ہے۔اور تیرا باپ بہت بڑھی ہوئی فضیلتوں والا تھا۔“ ( حقائق الفرقان جلد ۴ صفحه ۴۸۵،۴۸۴) انا اعطينك الكوثر : حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس آیت میں ایک معطاء یعنی بہت بڑے صدقہ دینے والے اور سخاوت کرنے والے وجود کی پیشگوئی ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں بھی ایک ایسے ہی شخص کی خبر دی گئی ہے۔ظاہر ہے کہ وہ شخص اور اس آیت میں بیان کردہ شخص ایک ہی ہو سکتے ہیں کیونکہ پیشگوئی کی علامات اگر مشترک ہوں تو مشار الیہ بھی ایک ہی شخص ہو سکتا ہے جبکہ دونوں پیشگوئیاں ایک ہی سلسلہ اور ایک ہی زمانے کے متعلق ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی خبر کے الفاظ یہ ہیں وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكَنَ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَدَلًا فيكير الصَّليب وَيَقْتُلَ الخِنْزِير وَيَضَعَ الجُزْيَةَ وَيُفِيضَ المَالَ حَتَّى لا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ ( بخاری ) حدیث کے ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے آخری زمانہ میں آنے والے مسیح کے بارہ میں خبر دیتے ہیں کہ وہ اموال لٹائے گا۔ان الفاظ کو اور کوثر کے معنوں کو آمنے سامنے رکھو تو دونوں الفاظ بالکل ہم معنے ہیں۔مال لٹانیو الا اور بے انتہا صدقہ و خیرات کرنیوالا دونوں الفاظ صاف طور پر ایک ہی وجود پر دلالت کرتے ہیں اور چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی میں اس شخص کی تعیین بھی کر دی گئی ہے۔اس تعیین کو ہم سورۃ کوثر کی پیشگوئی پر چسپاں کرنے پر مجبور ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعیین کے مطابق 'کوثر کی خبر کا مصداق مسیح موعود کو قرار دینے میں نہ صرف حق بجانب ہیں بلکہ اس کے سوا ہمارے لیے اور کوئی چارہ ہی نہیں۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی مہبط وحی قرآن ہیں اور آپ سب سے اول حقدار ہیں (صحیح البخاری، کتاب احاديث الأنبياء، باب نُزُولِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ) (صحيح البخاری، کتاب المظالم ، باب كسر الصليب، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی، جزء اول صفحہ ۳۳۶)