صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 476 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 476

صحیح البخاری جلد ۱۲ -۶۵ کتاب التفسير / انا اعطينك الكوثر امت اس پر وارد ہو گی۔اس کا برتن ستاروں جتنا وسیع ہے۔ان میں سے ایک آدمی اس پر سے ہٹایا جاوے گا تو میں کہوں گا کہ میرے رہے۔یہ تو میری اُمت کا آدمی ہے۔اسے کیوں ہٹایا جاتا ہے۔تو جواب ملے گا کہ تو نہیں جانتا کہ اس نے تیرے بعد کیسی نئی باتیں نکالی تھیں۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کوثر اس خیر کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عطا کی ہے۔ابوبشر لکھتا ہے کہ میں نے سعید ابن جبیر کو کہا کہ لوگ تو خیال کرتے ہیں کہ کو ثر جنت میں نہر کا نام ہے۔اور آپ کہتے ہیں وہ خیر ہے تو سعید نے کہا کہ جنت میں جو نہر ہے وہ بھی اسی خیر میں سے ہے۔جو اللہ تعالیٰ نے رسول کو عطا کی ہے۔حدیث شریف کی کتاب نسائی میں فِي الْجَنَّةِ کی بجائے فی بطنَانِ الْجَنَّةِ آیا ہے اور بطنَانِ الْجَنَّةِ کے معنے ہیں بہشت کے وسط میں۔ابن ابی شیبہ اور احمد اور ترمذی نے یہ روایت بیان کی ہے اور اس کو صحیح بتلایا ہے اور ابن ماجہ اور ابن جریر اور ابن المنذر اور ابن مردویہ نے بھی یہ روایت بیان کی ہے کہ وہ نہر موتیوں پر اور یا قوت پر جاری ہے۔اس کی مٹی کستوری سے زیادہ خوشبودار ہے اور اس کا پانی دودھ سے بھی زیادہ سفید ہے۔اور شہد سے بھی زیادہ میٹھا ہے۔اور نافع بن ارزق نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کو ترکیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ کوثر ایک نہر کا نام ہے جو کہ بہشت کے وسط میں ہے اور اس کے ارد گرد موتیوں کے اور یا قوت کے خیمے ہیں۔اس میں بیویاں اور خدام ہیں۔نافع نے کہا کہ اہلِ عرب ان معنوں سے واقف ہیں؟ حضرت ابنِ عباس نے فرمایا کہ ہاں واقف ہیں۔کیا آپ نے حسان ابن ثابت کا یہ شعر نہیں سنا۔وَحَيَّاهُ الْإِلهُ بِالْكَوْثَرِ الْأَكْبَرِ فِيهِ النَّعِيمُ وَالْخَيْرَاتُ ترجمہ شعر : اور خدا نے اسے کو ثر عطا کیا ہے۔بڑا کو ٹر جس میں نعمتیں اور بھلائیاں ہیں۔لفظ کو ثر کثرت سے نکلا ہے اور اس کے معنے ہیں بہت ساری چیز ، بہت زیادہ۔