صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 475
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۷۵ -۶۵ کتاب التفسير / انا اعطينك الكوثر ٤٩٦٦ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ :۴۹۷۶ یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ کہ شیم نے ہمیں بتایا کہ ابو بشر نے ہم سے بیان کیا، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ ابوبشر نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ فِي الْكَوْثَرِ هُوَ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔انہوں الْخَيْرُ الَّذِي أَعْطَاهُ اللهُ إِيَّاهُ قَالَ نے کوثر کے متعلق کہا کہ یہ وہ بھلائی ہے جو اللہ نے أَبُو بِشْرٍ قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَإِنَّ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دی۔ابو بشر کہتے تھے: النَّاسَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ میں نے سعید بن جبیر سے کہا کہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ وہ جنت میں ایک دریا ہو گا۔سعید نے کہا: فَقَالَ سَعِيدٌ النَّهَرُ الَّذِي فِي الْجَنَّةِ وہ دریا جو جنت میں ہو گا وہ بھی اس بھلائی سے ہے مِنَ الْخَيْرِ الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ۔طرفه ٦٥٧٨- جو اللہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی۔تشریح : سُورَةُ إِنَّا أَعْطَيْنَكَ الكوثر: حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجاہد اور حسن اور قتادہ اور عکرمہ کے قول کے مطابق یہ سورہ شریف مدنی ہے اور کتاب اتقان میں اسی قول کو درست قرار دیا گیا ہے۔اور نووی نے مسلم کی شرح میں بھی اسی بات کو ترجیح دی ہے۔احمد اور مسلم اور ابو داؤد اور نسائی اور بہیقی نے اپنی کتابوں میں اور ایسا ہی ابن جریر اور ابن المنذر اور ابن مردویہ اور ابن ابی شیبہ نے ابن مالک سے روایت کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر تک سر نیچے رکھا اور پھر سر اٹھا کر تبسم فرمایا اور کہا کہ ابھی مجھ پر ایک سورۃ نازل ہوئی ہے۔پھر سورۃ کوثر پڑھی۔“ ( حقائق الفرقان جلد ۴ صفحہ ۴۸۴) نیز فرمایا: ” بخاری اور حاکم اور ابن جریر نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک دفعہ اپنے اصحاب کو مخاطب کر کے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ کوثر کیا شئے ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتا ہے۔تب آپ نے فرمایا کہ کوثر ایک نہر کا نام ہے۔جو میرے رب نے مجھے عطا کی ہے۔وہ نہر جنت میں ہے۔اس میں خیر کثیر ہے۔قیامت کے روز میری