صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 473
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۷۳ ۶۵ - کتاب التفسير / اريت ان کے علاوہ بعض اور نے کہا ہے کہ اس سے مراد تارک نماز ہیں اور حضرت ابنِ عباس نے اس سے مراد وہ منافق لیے ہیں جو علیحدگی میں نماز چھوڑ دیتے ہیں اور لوگوں کی موجودگی میں پڑھتے ہیں اور قتادہ کے نزدیک اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ انہوں نے نماز پڑھی یا نہ پڑھی۔ (عمدۃ القاری جزء ۲۰ صفحہ ۲) الْمَاعُونَ : اس لفظ کے معنی ہیں ہر بھلا کی اہر بھلا کام۔ فرماتا ہے: وَيَمْنَعُونَ ) : وَ يَمْتَعُونَ الْمَاعُونَ ) (الماعون : ۸) اور روز مرہ کی ضروریات کی چیزیں بھی (لوگوں سے) روکے رکھتے ہیں۔ الماعون کی تفسیر میں تین اقوال بیان کیے گئے ہیں (۱) کلبی اور محمد بن کعب کے نزدیک اس سے مراد تمام معروف چیزیں ہیں، جو لوگ آپس میں لیتے دیتے ہیں جیسے ڈول ، کلہاڑی ہنڈیا، پیالہ وغیرہ۔ (۲) سعید بن مسیب، زہری اور مقاتل کے نزدیک قریش کی زبان میں اس سے مراد پانی ہے۔ (۳) عکرمہ، حسن اور قتادہ کے نزدیک ادنی سے لیکر تمام چیزیں اس میں شامل ہیں اور اس کی سب سے اعلیٰ صورت زکوۃ ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ماعون جامع اسم ہے جس میں گھر کا تمام سامان شامل ہے۔ جیسے چھاننی، غربال ڈول وغیرہ جو بھی گھروں میں چیزیں استعمال ہوتی ہیں جن سے کسی کو روکنا جائز نہیں جیسے پانی، نمک اور آگ وغیرہ۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۹۳۴) (عمدۃ القاری جزء ۲۰ صفحه ۳،۲)