صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 472
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۷۲ ۶۵ - کتاب التفسير / اريت ۱۰۷ - سورة أرويت قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ لا يُلْفِ (قریش (۲) ابن عیینہ نے کہا: لا یلف کے یہ معنی ہیں اس لئے لِنِعْمَتِي عَلَى قُرَيْشٍ وَقَالَ مُجَاهِدٌ کہ میں نے قریش پر اپنا یہ احسان کیا۔ اور مجاہد يدع ( الماعون: ٣) يَدْفَعُ عَنْ حَقِّهِ نے کہا: یدیح کے معنی ہیں اس کو حق لینے سے يُقَالُ هُوَ مِنْ دَعَعْتُ، يُدَعُونَ ہٹاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ لفظ دَعَعْتُ سے ہے، يُدْفَعُونَ۔ سَاهُونَ ( الماعون : (٦) لَا هُونَ يُدَعُونَ یعنی وہ ہٹائے جاتے ہیں۔ ساھون کے وَالْمَاعُونَ (الماعون : ۸) الْمَعْرُوفَ كُلُّهُ معنی میں عیش و عشرت میں مشغول۔ اور الْمَاعُونَ وَقَالَ بَعْضُ الْعَرَبِ الْمَاعُونُ الْمَاءُ کے معنی ہیں ہر بھلا کام۔ اور بعض عربوں نے کہا: وَقَالَ عِكْرِمَةُ أَعْلَاهَا الزَّكَاةُ الْمَاعُون سے مراد پانی ہے اور عکرمہ نے کہا: الماعون کا اعلیٰ درجہ وہ زکوۃ ہے جو فرض کی گئی الْمَفْرُوضَةُ وَأَدْنَاهَا عَارِيَّةُ الْمَتَاعِ۔ اور اس کا ادنی درجہ یہ ہے کہ سامان عاریتاً دینا۔ تشریح و آران ت: حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” اس سورۃ کو اس کے پہلے لفظ کے لحاظ سے سورۃ آرایت بھی کہتے ہیں جیسا کہ اور بھی بعض سورتوں کا نام ان کے پہلے الفاظ کے لحاظ سے ہیں۔ مثلاً والصفت، الرحمن، النجم ، الطور وغیرہ۔ دوسرا نام اس سورہ شریف کا الدین ہے کیونکہ اس میں جزا و سزا کے ضروری اور اہم مسئلہ کی تکذیب کرنے والے کا خصوصیت کے ساتھ ذکر ہے۔ تیسر ا نام اس سورۃ شریف کا سورۃ الماعون ہے اور زیادہ تر مشہور یہی نام ہے۔ چو تھا نام اس سورۃ کا سورۃ الیتیم ہے۔ کیونکہ اس میں یتیم کے ساتھ محبت کرنے اور اس پر دست شفقت رکھنے کی طرف خاص طور پر ترغیب دی گئی ہے۔“ ( حقائق الفرقان جلد ۴ صفحہ ۴۷۴) سَاهُونَ کے معنی ہیں عیش و عشرت میں مشغول فرماتا ہے : الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ (الماعون: ٢) جو اپنی نماز سے غافل رہتے ہیں۔ نمازوں سے غفلت کی ایک بڑی وجہ دنیا کی عیش و عشرت میں انہماک ہے۔ اور یہ طبیعت میں ایسا کسل سستی اور بے رغبتی پیدا کرتا ہے کہ انسان خدا کی عبادت سے بیگانہ اور غافل ہو جاتا ہے۔ حضرت سعد مد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو نماز کو اپنے وقت پر ادا نہیں کرتے۔