صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 470 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 470

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۷۰ ۶۵ - كتاب التفسير الايلف قريش ١٠٦- سورة لا يُلفِ قريش وَقَالَ مُجَاهِدٌ لايُلفِ (قریش: ۲) أَلِفُوا اور مجاہد نے کہا: لا یلف سے مراد یہ ہے: اس لئے ذَلِكَ، فَلَا يَشُقُّ عَلَيْهِمْ فِي الشَّتَاءِ که ( قريش ) اس سے مانوس ہو چکے ہیں، ان پر وَالصَّيْفِ۔وَأَمَنَهُمْ (قريش : ٥) مِنْ كُلّ جاڑے اور گرمی میں (سفر کرنا) شاق نہیں گزرتا۔عَدُوِّهِمْ فِي حَرَمِهِمْ۔وَأمَنَهُمْ یعنی ان کو اپنے حرم میں ان کے ہر ایک دشمن سے امن دیا۔تشریح: سُورَةُ لا يلف قريش : اس سورۃ کے دو نام ہیں اسے قریش بھی کہتے ہیں اور اس کا ایک نام حدیثوں میں لا یلف بھی آتا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس سورۃ کا پہلی سورۃ سے یہ تعلق ہے کہ پہلی سورۃ میں یہ بتایا گیا تھا کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے کعبہ کی حفاظت کی اور یہ کہ آئندہ زمانے میں بھی وہ کعبہ کی اسی طرح حفاظت فرمائے گا آئندہ زمانے کی بات تو ابھی دنیا نے دیکھی نہیں جب وقت آئے گا دنیا اس نظارے کو بھی دیکھ لے گی لیکن پہلا نشان مکہ والے دیکھ چکے ہیں اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ اسی نشان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس عظیم الشان نشان کو دیکھتے ہوئے پھر بھی مکہ کے لوگ دنیا کی طرف زیادہ توجہ کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف کم توجہ کرتے ہیں حالانکہ اتنابڑا نشان دیکھنے کے بعد انہیں یہ یقین ہو جانا چاہیئے تھا کہ خانہ کعبہ سے تعلق رکھنے والوں اور اس کی سچی خدمت کرنے والوں کا اللہ تعالیٰ خود حافظ و ناصر ہوتا ہے اور اس وجہ سے انہیں دنیا کی طرف کم توجہ کرنی چاہیئے تھی مگر افسوس ہے کہ ان کی حالت اس کے برعکس ہے۔دوسرا تعلق اس سورۃ کا پہلی سورۃ سے یہ ہے کہ پہلی سورۃ میں کعبہ کے دشمنوں کا انجام بتایا گیا تھا اب اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ خانہ کعبہ سے محبت رکھنے والوں کے انجام کا ذکر کرتا ہے گویا ایک میں دشمنوں کا انجام بتایا اور دوسری میں دوستوں سے خواہ وہ گنہ گار ہی تھے اپنے تعلق کا اظہار کیا اور ان پر اپنے احسان کا ذکر کیا۔“ تفسیر کبیر ، سورۃ قریش، جلد ۱۰ صفحه ۷۹)