صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 469 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 469

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۶۹ ۶۵ - كتاب التفسير / المتر ١٠٥ - سُورَةُ أَلَمْ تَرَ قَالَ مُجَاهِدٌ أَلَمْ تَرَ (الفيل: ٢) أَلَمْ مجاہد نے کہا: الم تر کے معنی ہیں کیا تمہیں معلوم تَعْلَمْ۔ وَقَالَ مُجَاهِدٌ اَبَابِيلَ (الفيل: ٤) نہیں۔ اور مجاہد نے کہا: ابابیل کے معنی ہیں مُتَتَابِعَةٌ مُجْتَمِعَةً۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ یکے بعد دیگرے، جھنڈ درجھنڈ آنے والے۔ اور من سجيل ( الفيل: ٥) هِيَ سَنْكِ وَكِلْ۔ حضرت ابن عباس نے کہا: من سجیل یہ لفظ سنگ اور گل سے مرکب ہے۔ (یعنی کھنگر جو کئی پتھر کے ٹکڑوں اور مٹی کی تہوں سے بنا ہوا ہو ) تشریح: سورة الم تور: واقعہ فیل کے متعلق بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت ہے انہوں نے کہا: جب اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مکہ کو فتح کرا دیا تو آپ لوگوں میں تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثنا کی۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اللہ نے مکہ کو اصحاب فیل کے حملہ سے محفوظ رکھا تھا اور اپنے رسول کو اور مومنوں کو اُس پر غلبہ دے دیا۔ (روایت نمبر ۲۴۳۴) حضرت خلیفة المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: الم تر کے معنی المْ تَعْلَمُ کے ہیں۔ کیونکہ اصحب فیل کا واقعہ متواتر بیان سے ایسا معتبر و مشہود تھا کہ رویت اور علم کا حکم رکھتا تھا۔ جس سال اصحاب فیل تباہ ہوئے۔ اسی سال پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔ آپؐ کی ولادت ۵ اپریل ۵۷۱ء کو ہوئی۔“ نیز حضور فرماتے ہیں: حقائق الفرقان جلد ۴ صفحه ۴۶۲) عباسیوں کی سلطنت تھی۔ ایک دفعہ محمود غزنوی سے ان کی کچھ رنجش ہو گئی۔ محمود غزنوی نے اس خلیفہ کو لکھا کہ میں ہندوستان کا فاتح ہوں اور میرے پاس اتنے ہاتھی ہیں۔ خلیفہ نے اس کے جواب میں الف آخر نہایت خوبصورت لکھوا کر بھیج دیا۔ محمود کے دربار میں تو سب فارسی دان ہی تھے۔ چنانچہ اس زمانہ کی یادگار صرف ”شاہ نامہ “ ہی باقی ہے۔ وہ تو کچھ سمجھے نہیں۔ آخر محمود نے کہا کہ خلیفہ نے الَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ یاد دلائی ہے اور اس کا مطلب ہے کہ تمہارے پاس ہاتھی ہیں تو ہمارا وہ رب ہے جو اصحاب الفیل کو ہلاک کر چکا ہے۔ بہت ڈر گیا اور معذرت کی جس پر تعلقات درست ہو گئے۔“ (حقائق الفرقان جلد ۴ صفحہ ۴۶۲)