صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 468
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۶۸ -۶۵- كتاب التفسير ويل لكل همزة الخطبة : آگ کا نام ہے جیسے سفر اور لفظی یعنی دوزخ اور شعلہ (والا عذاب) فرماتا ہے وَمَا أَدْراكَ مَا الحُطَمَةُ ( الهمزة : 1) اور تجھے کیا بتائے کہ خطبہ کیا ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حظم کے لغوی معنی بھی توڑنے ہی کے ہیں۔زراعت کا غلہ جو چورنے کے لئے جانوروں کے پیروں سے روند ایا جاتا ہے۔وہ خطام کہلاتا ہے۔كَمَا قَالَ الله تعالی کو نَشَاءُ لَجَعَلْنَهُ حُطَامًا (الواقعۃ:۶۶) همز اور لمز کی جزا میں بھی سزا بالمثل کے طور پر اللہ تعالیٰ نے نار جہنم کے طبقہ کا نام محطمة بیان فرمایا ہے۔“ حقائق الفرقان جلد ۴ صفحه ۴۶۰) ا ترجمہ حضرت خلیفة المسیح الرابع : اگر ہم چاہتے تو ضرور اسے ریزہ ریزہ کر دیتے۔“