صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 467 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 467

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۶۷ ۶۵ - كتاب التفسير / ويل لكل همزة ١٠٤ - سُورَةُ وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اللہ کے نام کے ساتھ جو رحمن اور رحیم ہے۔ الحطمة (الهمزة:٥) اسْمُ النَّارِ مِثْلُ الحطمة: آگ کا نام ہے جیسے سَقَر اور نظمی یعنی سَقَرَ وَلَظى۔ دوزخ اور شعلہ (والا عذاب۔) يح ۔ سُورَةُ وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ: سعيد بن منصور نے حضرت ابن عباس کی روایت بیان کیا ہے کہ تشریح: ان سے ھمزہ کے بارے میں پوچھا گیا انہوں نے فرمایا: اس سے مراد چغل خور ہے جو دو بھائیوں میں اختلاف پیدا کرتا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۹۳۲) حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "سورۃ العصر کے بعد سورۃ الھمزہ آتی ہے جو اموال کی حریص قوموں کے لیے اب تک بیان فرمودہ انتباہات میں سے سب سے بڑا انتباہ ہے۔ فرمایا کیا اس زمانہ کا بڑا انسان یہ گمان کرے گا کہ اس کے پاس اس کثرت سے دولت اکٹھی ہو چکی ہے اور وہ اسے بے دریغ اپنے دفاع میں خرچ کر رہا ہے گویا اب اسے اس دنیا میں ابدی برتری حاصل ہو گئی ہے ؟ خبر دار وہ ایک ایسی آگ میں جھونکا جائے گا جو چھوٹے سے چھوٹے ذروں میں بند کی گئی ہے اور تجھے کیا پتہ کہ وہ کونسی آگ ہے؟ یہ سوال طبعی طور پر اٹھتا ہے کہ چھوٹے سے ذرہ میں آگ کیسے بند کی جاسکتی ہے ؟ لازما اس میں اس آگ کا ذکر ہے جو ایٹم میں بند ہوتی ہے اور لفظ حطمۃ اور ایٹم (ATOM) میں صوتی مشابہت ہے۔ یہ وہ آگ ہے جو دلوں پر لپکے گی اور ان پر لپکنے کے لیے ایسے ستونوں میں بند کی گئی ہے جو کھنچ کر لمبے ہو جائیں گے۔ یہ ساری سورت انسان کو سمجھ آہی نہیں سکتی جب تک اس ایٹمی دور کے حالات اس پر روشن نہ ہوں وہ ایٹمی مادہ جس میں یہ آگ بند ہے وہ پھٹنے سے پہلے عبد محمد دة کی شکل اختیار کرتا ہے یعنی بڑھتے ہوئے اندرونی دباؤ کی وجہ سے پھیلنے لگتا ہے اور اس کی آگ انسانوں کے بدن جلانے سے پہلے ان کے دلوں پر لپکتی ہے اور انسانوں کی حرکت قلب بند ہو جاتی ہے۔“ " ترجمه قرآن کریم حضرت خلیفة المسیح الرابع، تعارف سورة الهمزة صفحه ۱۲۱۰)