صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 26
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۶ ۶۵ - کتاب التفسير / حم السجدة ہوتے ہیں کہ ان تک رسائی صرف ان برگزیدہ انسانوں کو نصیب ہوتی ہے جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے دست قدرت سے پاک کرتا ہے۔فرماتا ہے: لا يَمَسةُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة : ۸۰) لے مگر جو لوگ ان اوصاف سے محروم ہوتے ہیں وہ اپنی کو رباطنی کی وجہ سے اعتراض کرتے ہیں۔ان کی نظر میں جو بات قابل اعتراض ہوتی ہے وہ دراصل نہایت اعلیٰ درجہ کا مضمون اور بہت بڑی معرفت کا بیان ہوتا ہے۔امام ابنِ حجر نے لکھا ہے کہ یہ شخص جس نے حضرت ابنِ عباس سے قرآن کریم کی آیات کے تعارض کے حوالے سے چار سوال کیے وہ نافع بن ازرق تھا۔یہ خوارج کے فرقہ از ارقہ کا بعد میں رئیس بنا۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۷۰۸) ان لوگوں کی مسلمانوں سے کئی جنگیں ہوئیں، بعض حضرت عبد اللہ بن زبیر کے زمانہ میں اور بعض عبد الملک بن مروان کے زمانہ میں۔اس کی تفصیل کتاب الفرق بين الفرق، ذكر الأزارقة، صفحہ ۶۲ تا ۲۶ پر دیکھی جاسکتی ہے۔وَقَيَّضُنَا لَهُمْ قُرنَاء : یعنی ہم نے ان کے ساتھ ان کے جوڑ کے ساتھی لگا دیئے ہیں۔مکمل آیت یہ ہے: وَقَيَّضُنَا لَهُمْ قُرَنَا، فَزَيَّنُوا لَهُم مَّا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ إِنَّهُمْ كَانُوا خُسِرِينَ ( حم السجدة: 4 ) اور ہم نے اُن کے لئے بعض ساتھی مقرر کر دیئے پس انہوں نے اُن کے لئے اُسے خوب سجا کر پیش کیا جو اُن کے سامنے تھا یا اُن سے پہلے تھا پس اُن پر وہی فرمان صادق آگیا جو ان قوموں پر صادق آیا تھا جو اُن سے قبل جن وانس میں سے گزر چکی تھیں یقیناوہ گھاٹا پانے والوں میں سے تھے۔( ترجمه قرآن کریم حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ بُرے ساتھی اور بری صحبت انسان کو بُرائیوں اور گناہوں میں بڑھانے کا موجب بنتے ہیں اور انجام کار ایسے لوگ گھاٹا پانے والوں میں سے ہو جاتے ہیں۔تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلائِكَةُ : مکمل آیت یہ ہے: إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمْ الْمَلبِكَةُ أَلَا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ أَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَولِيؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِيَ أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ ( حم السجدۃ: ۳۱، ۳۲) یقیناً وہ لوگ جنہوں نے کہا اللہ ہمارا رب ہے، پھر استقامت اختیار کی، اُن پر بکثرت فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ خوف نہ کرو اور غم نہ کھاؤ اور اس جنت ( کے ملنے) سے خوش ہو جاؤ جس کا تم وعدہ دیئے جاتے ہو۔ہم اس دنیوی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی اور اس میں تمہارے لئے وہ سب کچھ ہو گا جس کی تمہارے نفس خواہش کرتے ہیں اور اس میں تمہارے لئے وہ سب کچھ ہو گا جو تم طلب کرتے ہو۔(ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ ) امام بخاری نے تَتَنَزِّلُ عَلَيْهِمُ الْمَليكة كا ذكر وَقَيَّضُنَا لَهُمْ قُرنَاة ( حم السجدۃ:۲۶) کے مقابل بیان کیا ہے۔اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ بُری صحبت انسان کو گھاٹا پانے والوں میں سے بنادیتی ہے، جبکہ نیک صحبت جس کی اعلیٰ مثال فرشتوں کا نزول ہے، وہ دنیاو آخرت کی کامیابیوں پر منتج ہوتی ہے۔ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” کوئی اسے چھو نہیں سکتا سوائے پاک کئے ہوئے لوگوں کے۔“