صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 466
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۶۶ ۶۵ - کتاب التفسير و العصر ١٠ _ سُورَةُ وَالْعَصْرِ وَقَالَ يَحْيَى الْعَصْرُ الدَّهْرُ أَقْسَمَ بِهِ اور يحي بن زیاد) نے کہا: العصر سے مراد زمانہ ہے جس کی (اللہ نے قسم کھائی۔تشریح: سُورَةُ وَالْعَصْرِ : گذشتہ سورۃ میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو دنیا طلبی میں لگے رہتے ہیں اس سورۃ میں ان کا انجام بتایا گیا ہے جو کہ خسارے اور گھاٹے کے سوا اور کچھ نہیں مگر وہ لوگ جو ایمان اور عمل صالح بجالائے اور نیک باتوں کی ترویج کی کوشش کرتے رہے وہ اس خسارے سے محفوظ رہیں گے۔حسن بصری کہتے ہیں عصر سے مراد شام کا وقت ہے اور قتادہ کہتے ہیں کہ دن کی گھڑیوں میں سے ایک گھڑی ہے اور ابنِ کیسان کے نزدیک عصر رات اور دن کو کہتے ہیں۔اور مقاتل کے نزدیک عصر سے مراد نماز عصر ہے جو کہ صلاۃ وسطی ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۳۱۳) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”حضرت امام شافعی کہتے ہیں کہ یہ سورۃ بڑے وسیع مطالب رکھتی ہے اگر کوئی شخص اس سورۃ پر تدبر کرے تو اس کی تمام دینی ضرورتیں پوری ہو جاتی ہیں۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ دو صحابی تھے جب بھی وہ آپس میں ملنے کے بعد ایک دوسرے سے جدا ہونے لگتے تو یہ سورۃ ایک دوسرے کو سناتے اور پھر سلام کر کے رخصت ہوتے۔اس کے بغیر وہ کبھی جدا نہیں ہوتے تھے۔اے گویا صحابہ اس سورۃ کے مضمون کی وسعت سے خاص طور پر متاثر تھے۔“ ( تفسیر کبیر، سورة العصر ، جلد ۹ صفحه ۵۴۶) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: " قرآن سورۃ عصر کے اعداد میں قمری حساب سے اس وقت کی طرف اشارہ کرتا ہے جو آدم سے ہمارے نبی تک گذرا ہے پس اگر شک ہے تو گن لو۔اور جب یہ تحقیق ہو گیا تو جان لو کہ میں چھٹے ہزار کے آخر اوقات میں پیدا کیا گیا ہوں جیسا کہ آدم چھٹے دن میں اس کی آخری ساعت میں پیدا کیا گیا۔پس میرے سوا دوسرے مسیح کے لئے میرے زمانہ کے بعد قدم رکھنے کی جگہ نہیں اگر فکر کرو۔“ (خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۲۴۲ ۲۴۳) (المعجم الأوسط للطبراني، باب البيم ، من اسمه محمد، جزء ۵ صفحه ۲۱۵، روایت نمبر ۵۱۲۴)