صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 465 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 465

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۶۵ ۶۵ - كتاب التفسير / / ١٠٢ - سُورَةُ الهكم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ اللہ کے نام کے ساتھ جو رحمن اور رحیم ہے وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ التَّكَاثُرُ ( التكاثر : ۲) اور حضرت ابن عباس نے فرمایا: التكاثر یعنی مال مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ۔اور اولاد کا بہت ہونا۔ریح: سورة الهكم : اس سورۃ میں انسان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ دو دولت کی حرص میں قبروں تک جا پہنچے گا۔اس میں دنیاوی قوموں کو بھی اور تو ہم پرست مذہبی قوموں کو بھی انذار کیا گیا ہے جو مال و دولت کی طلب اور آرزوؤں کو پورا کرنے کے لیے قبروں تک جا پہنچتی ہیں اور بتایا گیا ہے کہ اس دوڑ کا نتیجہ سوائے ہلاکت کے اور کچھ بھی نہیں ہو گا۔(ماخوذ از ترجمه قرآن کریم حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ ، تعارف سورۃ التکاثر صفحہ ۱۲۰۶) حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اٹھا کے معنے کسی چیز سے غافل کر کے دوسری چیز میں مشغول کرنے کے ہیں۔جیسے فرمایا: رِجَالُ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ (النور: ۳۸)۔تتاثر ایک دوسرے پر زیادتِ مال کی حرص کرنا۔اسی واسطے کہا گیا ہے کہ مج شَغَلَكَ عَنِ اللهِ فَهُوَ صَنَبُكَ حَتَّى زُرْتُهُ الْمَقَابِر: صحیحین میں روایت ہے کہ ابنِ آدم بوڑھا ہو جاتا ہے۔اور دو چیزیں اس کی جوان رہ جاتی ہیں۔ایک ان میں سے حرص مال ہے۔ابوہریرہ سے یہ مروی ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۃ التکاثر پڑھی اور پھر فرمایا۔بندہ کہتا ہے کہ یہ میرا مال ہے۔یہ میرا مال ہے۔حالانکہ اس کا مال تو صرف اتنا ہی ہے۔جو کھا لیا وہ تو فنا کر دیا۔اور جو پہن لیا اس کو پرانا کر دیا۔اور جو خدا کی راہ میں دے دیا، اس کو آگے کے لئے جمع کیا۔ان تین قسموں کے سوا جو کچھ اور مال ہے وہ تو لوگوں کا ہے۔“ (حقائق الفرقان جلد ۴ صفحہ ۴۵۰) ل ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ایسے عظیم مرد جنہیں نہ کوئی تجارت اور نہ کوئی خرید و فروخت اللہ کے ذکر سے غافل کرتی ہے۔“ (مسلم کتاب الزهد والرقائق روایت نمبر ۴)