صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 463
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۶۳ ١٠١- سُورَةُ الْقَارِعَة ۶۵ - کتاب التفسير / القارعة كَالفَرَاشِ الْمَبْثُوثِ (القارعة : ٥) كَغَوْغَاءِ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوثِ جیسے ٹڈی دل جو ایک دوسرے الْجَرَادِ يَرْكَبُ بَعْضُهُ بَعْضًا كَذَلِكَ کے اوپر اُمڈی آتی ہیں۔اسی طرح لوگ بھی ایک النَّاسُ يَجُولُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ۔دوسرے میں گھومیں گے۔العین کے معنی ہیں اون کے رنگوں کی طرح رنگ برنگ) اور كَالْعِهْنِ (القارعة: ٦) كَأَلْوَانِ الْعِهْنِ وَقَرَأَ عَبْدُ اللهِ كَالصُّوفِ۔"" حضرت عبد اللہ بن مسعود) نے اس آیت کو یوں پڑھا: گالصُّوف یعنی پشم کی مانند۔تشريح : سُورَةُ القارِعَة: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ سورۃ بھی پچھلی ترتیب کے لحاظ سے اس طرح پر آتی ہے کہ سورۃ العادیات میں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ ترقی اور کامیابی بیان کی گئی تھی جو ابتدائی زمانہ کے ساتھ تعلق رکھتی تھی اور اب القارِعَة میں اس آخری دور کے متعلق آپ کے سلسلہ کی ترقی کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ پھر اسلام کے لیے مصیبت اور تکالیف کے دن ہوں گے۔“ ( تفسیر کبیر ، سورۃ القارعہ ، جلد ۹ صفحه ۵۰۶) نیز قارعہ کے متعلق حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قارعہ ایسے عذابوں کو اس لئے کہا جاتا ہے کہ قرع کے معنے دستک دینے اور ٹھکرانے کے ہوتے ہیں۔جب لوگ خدا تعالیٰ کے مامور کی آواز نہیں سنتے اور روحانی طور پر سوئے رہتے ہیں تو خداتعالی دستک دے کر جگانے کے لیے کچھ عذاب بھجواتا ہے۔ان دستکوں سے آخر وہ روحانی نیند سے بیدار ہو جاتے ہیں اور رسول کی آواز سنے کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔پس قارعہ وہ عذاب ہیں جو نبیوں کو منوانے کیلئے دنیا میں آتے ہیں۔“ ( تفسیر کبیر ، سورۃ القارعہ ، زیر آیت القَارِعَةُ جلد ۹ صفحه ۵۰۸) گالفراش المبثُوثِ جیسے ٹڈی دل جو ایک دوسرے کے اوپر اُمڈی آتی ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " يَوْمَ يَكُونُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوثِ (القارعة: ۵) فراش : ٹڈیاں بلکہ گل