صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 461 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 461

يح البخاری جلد ۱۲ نیز فرمایا: ۶۵ کتاب التفسير / الغديت عَادِیہ کی جمع عادیات ہے۔عَادِيَہ عَدو سے مشتق ہے۔عدو کے معنے دوڑنے کے ہیں۔جمع میں وی سے بدل گئی۔(حقائق الفرقان جلد ۴ صفحہ ۴۴۲) نیز فرمایا: "عادیات، موریات وغیرہ ہر فعل کو جمع کے صیغہ سے بیان فرما کر آخر بھی جھمعا فرمایا۔اس تاکید میں یہ اشارہ ہے کہ جس جماعت کا شیرازہ کمزور ہے۔وہ جماعت فاتح نہیں ہو سکتی۔“ (حقائق الفرقان جلد ۴ صفحہ ۴۴۳) لكنود : مجاہد نے کہا لگنوں کے معنی ہیں ناشکرا۔قریش کی زبان میں کنود سے مراد ناشکرا اور کنانہ کی زبان میں بخیل اور کندہ کی زبان میں گناہ گار کو کہتے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۹۲۹) حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: گنُود گند سے ماخوذ ہے۔اور گند کے معنے قطع کرنے کے ہیں۔رسی کاٹ دینے کو گند الحبل کہتے ہیں۔گھوڑا گھاس، توڑی، بھوسہ کھاتا ہے۔اور وفاداری میں بڑا جانباز ہے۔انسان ہزاروں قسم کی لذیز سے لذیذ نعمتیں اپنے ربّ کی دی ہوئی کھاتا ہے اور وفاداری کے وقت اس رشتہ کہ بوبیت کو کاٹ دیتا ہے۔بے وفا ناز پروردہ انسان جو بھینسے کی طرح پھولا ہوا ہوتا ہے۔اس کی مثال اس شعر میں خوب بیان کی گئی ہے۔اسپ لاغر میاں بکار آید روز میداں نہ گاہ پر داری گھوڑا میدان کے دن بڑا چست ہوتا ہے، مگر بے وفا انسان کُند ہوتا ہے۔کنُود میں اسی بات کو بیان فرمایا گیا ہے۔“ ( حقائق الفرقان جلد ۴ صفحہ ۴۴۳) فاترن به نقعا کے یہ معنی کیے جاتے ہیں کہ وہ اس صبح کے وقت) میں دھول اُڑاتے ہیں۔نفع کے معنی گر دو غبار کے ہیں۔لَشَدِيد البخيل : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَإِنَّهُ لِحُتِ الْخَيْرِ لَشَدِيده (الغدیت: 9) اور وہ (باوجود اس کے) یقینا مال کی محبت میں بہت بڑھا ہوا ہے۔“ (ترجمہ تفسیر صغیر) حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: شدید کے معنے بخیل اور ممسک کے بھی ہیں۔فَلَانٌ شَدِيدٌ وَ تَشَدَّدَ۔