صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 460
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۶۰ ۶۵ کتاب التفسير / الغديت ۱۰۰- سُورَةُ وَالْعَدِيتِ ، وَالْقَارِعَة وَقَالَ مُجَاهِدٌ: لَكَنُودُ (الغديت (۷) اور مجاہد نے کہا: لكَنُود کے معنی ہیں ناشکرا۔الْكَفُورُيُقَالُ فَاثَرْنَ بِهِ نَفْعًا (العدیت : ٥) فَاثَرْنَ بِهِ نَقعا کے یہ معنی کیے جاتے ہیں کہ وہ رَفَعْنَ بِهِ غُبَارًا ، لِحَتِ الْخَيْرِ (الغديت: ۹) اس صبح کے وقت) میں دھول اُڑاتے ہیں۔مِنْ أَجْلِ حُبِّ الْخَيْرِ، لَشَدِيدُ لِحَتِ الْخَيْرِ کے معنی ہیں مال کی محبت کی وجہ ے۔تشدید کے معنی ہیں بہت ہی بخیل ہے۔الرس (الغديت: ٩) لَبَخِيلٌ وَيُقَالُ لِلْبَخِيلِ بخیل کو تقلید بھی کہا جاتا ہے۔حقل کے معنی شَدِيدٌ، حصل (الغديت: ١١) مُيّز۔ہیں جدا کیا جائے گا، ممتاز کر دیا جائے گا۔تشریح: سُورَةُ والعدابيت : سورة عادلیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی ان دفاعی جنگوں کا ذکر ہے۔جو دشمن کی طرف سے آپ پر مسلط کی گئیں جن میں آپ اور آپ کے صحابہ نے شب خون کرنے سے احتراز کیا جس سے ان کی بہادری اور توکل علی اللہ نظر آتا ہے نیز اس سورۃ میں یہ بھی پیغام ہے کہ دنیا میں کی جانے والی ساری جنگوں کا مرکزی نقطہ حصولِ مال ہو تا تھا اور آج بھی یہی ہے۔مگر اسلامی جنگوں کے مقاصد میں قرآن کریم بیان فرماتا ہے : ” ان لوگوں کو جن کے خلاف قتال کیا جارہا ہے (قتال کی ) اجازت دی جاتی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیے گئے۔اور یقینا اللہ ان کی مدد پر پوری قدرت رکھتا ہے۔(یعنی) وہ لوگ جنہیں ان کے گھروں سے ناحق نکالا گیا محض اس بناء پر کہ وہ کہتے تھے کہ اللہ ہمارا رب ہے اور اگر اللہ کی طرف سے لوگوں کا دفاع ان میں سے بعض کو بعض دوسروں سے بھڑا کر نہ کیا جاتا تو راہب خانے منہدم کر دیئے جاتے اور گرجے بھی اور یہود کے معابد بھی اور مساجد بھی جن میں بکثرت اللہ کا نام لیا جاتا ہے اور یقینا اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرتا ہے۔یقینا اللہ بہت طاقتور (اور) کامل غلبہ والا ہے۔“ ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفتہ المسیح الرابع، سورۃ الحج: ۴۱،۴۰ صفحه ۵۶۸) حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس سورۃ شریفہ کا مضمون شریف الطبع گھوڑے کی وفاداری اور اس کے بالمقابل انسان کی بیوفائی اور اس پر مردہ دلوں سے پروردگار کی طرف سے مناقشہ ہے۔ترتیب آیات میں وفاداری کی تدریجی ترقیات کو دکھایا ہے۔“ (حقائق الفرقان جلد ۴ صفحہ ۴۴۲) 1 فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ لفظ وَالْقَارِعَة نہیں ہے۔یہاں فتح الباری مطبوعہ دارالسلام کا متن ہونے کی وجہ سے درج کیا گیا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۹۲۹)