صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 25
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۵ ۶۵ - كتاب التفسير / حم السجدة ریخ ۱۔انتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْاَرْضِ اخْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَابعين (حم السجدة : ١٢) - امام ابن حجر" نے اس کی وضاحت میں مجاہد کی سند سے حضرت ابن عباس ہی کی ایک روایت درج کی ہے کہ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلسَّمَاوَاتِ أَطلِعِي الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ وَقَالَ لِلْأَرْضِ شَقِيقِي أَنهَارَكِ وَأَخْرِ فِي مُمَارَكِ قَالَنَا أَتَيْنَا طَائِعِيْنَ۔یعنی اللہ عزوجل نے آسمانوں سے کہا: سورج، چاند اور ستاروں کو نکالو اور زمین سے کہا: اپنے دریاؤں کو پھیلاؤ اور اپنے پھل نکالو۔تو (زمین و آسمان) دونوں نے کہا: ہم خوشی سے آتے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۷۰۷) احتیا طوعا او گرھا کے معنی ہیں خوشی سے یا مجبوری سے مان جاؤ، فرمانبردار ہو جاؤ۔حضرت ابنِ عباس کے بیان کردہ ان معانی پر یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ آئی یأتی کے معنی آنے کے ہیں، اعطاء کے نہیں۔اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ حضرت ابنِ عباس کی قراءت میں اشتیا اور آتینا مد کے ساتھ ہے اور یہ صیغے مو استاۃ باب مفاعلہ کے ہیں۔جبکہ آتی یأتی ثلاثی مجرد کے صیغے ہیں۔مواتاۃ کے معنی موافقت کے ہیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین اور آسمان کو یہ حکم دیا گیا کہ تم دونوں کی تخلیق کے جو مقاصد ہیں ان میں ایک دوسرے کی موافقت کرد یعنی دونوں کے نظام ایک دوسرے کے لیے معاون و مددگار بنیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نہایت لطیف پیرایہ میں اس مضمون کو کھولا ہے۔آپ فرماتے ہیں:۔۔۔۔فَهَذِهِ الْآيَاتُ كُلُهَا تَدُلُّ عَلَى أَنَّ اللَّهَ الْحَكِيمُ الْعَلِيمَ الرَّحِيمَ الْكَرِيمَ الْمُتَفَضِّلَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَذَكَرٍ وَأُنْقَى، وَاقْتَضَتْ حِكْمَتُهُ أَنْ تَجْمَعَهُمَا مِنْ حَيْثُ الْفِعْلِ وَالانْفِعَالِ، وَيَجْعَلَ بَعْضَهُمَا مُؤَيَّرًا فِي بَعْضٍ وَهَذَا مَعْنَى قَوْلِهِ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْأَرْضِ اشْتِيَا “ (حمامة البشرى، روحانی خزائن جلدی صفحه ۲۸۹) ترجمہ: یہ سب آیات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ خدا تعالی جو حکیم، علیم، رحیم ، کریم اور فضل کرنے والا ہے، اُس نے آسمانوں اور زمین کو نر و مادہ کی مانند پیدا کیا ہے اور اس کی حکمت نے تقاضا کیا کہ ان دونوں کو مؤثر اور متاثر حیثیت سے جمع کرے اور ان میں سے بعض کو بعض میں اثر کرنے والا بنائے اور اللہ تعالیٰ کے قول فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ التیا کے یہی معنی ہیں۔قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنِّي أَجِدُ فِي الْقُرْآنِ أَشْيَاء تختلف على : سورۃ حم السجدۃ کے الفاظ کی شرح میں امام بخاری نے ایک شخص کے چار سوال اور حضرت ابنِ عباس کے جواب درج کیے ہیں۔خدا تعالیٰ اور اس کے انبیاء کے کلام میں بعض اوقات بادی النظر میں اختلاف نظر آتا ہے کیونکہ اس کلام کے بعض دقیق اور لطیف حصے ایسے ا ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : ” پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں دھواں تھا اور اُس نے اس سے اور زمین سے کہا کہ تم دونوں خوشی سے یا مجبوراً چلے آؤ۔اُن دونوں نے کہا ہم خوشی سے حاضر ہیں۔“