صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 456
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۵۶ ۶۵ - کتاب التفسير اذا زلزلت الارض طِيَلِهَا ذَلِكَ فِي الْمَرْجِ وَالرَّوْضَةِ باندھے رکھا اور چراگاہ یا باغ میں ان کی رسی لمبی كَانَ لَهُ حَسَنَاتٍ وَلَوْ أَنَّهَا قَطَعَتْ کر دی تو انہوں نے رسی کی لمبائی میں جو کچھ اس طِيَلَهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْن چراگاہ یا باغ سے چر اتو اس قدر اس کے لئے نیکیاں كَانَتْ آثَارُهَا وَأَرْوَاتُهَا حَسَنَاتٍ لَهُ ہوں گی۔اگر وہ اپنی رسی توڑ کر ایک دو میل کو دتے وَلَوْ أَنَّهَا مَرَّتْ بِنَهَرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ بپھاندتے بھاگ جائیں تو ان کے قدموں کے نشان وَلَمْ يُرِدْ أَنْ يَسْقِيَ بِهِ كَانَ ذَلِكَ ان کی لید یہ بھی اس شخص کے لئے نیکی کا موجب ہوگی حَسَنَاتٍ لَهُ فَهِيَ لِذَلِكَ الرَّجُلِ اور اگر وہ کسی ندی سے گزریں اور پانی پئیں اور وہ پانی أَجْرٌ وَرَجُلٌ رَبَطَهَا تَغْنِيَا وَتَعَفُّفًا وَلَمْ نہ پلانا چاہتا ہو تو یہ بھی اس کے لئے نیکیوں کا موجب ہو گا۔اس لئے یہ گھوڑے ایسے شخص کے لئے ثواب يَنْسَ حَقَّ اللَّهِ فِي رِقَابِهَا وَلَا کا موجب ہیں اور ایک وہ شخص ہے جس نے ان کو ظُهُورِهَا فَهِيَ لَهُ سِتْرٌ وَرَجُلٌ رَبَطَهَا روپیہ کمانے یا مانگنے سے بچنے کے لئے باندھا اور اللہ فَخْرًا وَرِثَاءً وَنِوَاءٌ فَهِيَ عَلَى ذَلِكَ کے اس حق کو نہ بھولا جو کہ ان کی گردنوں میں ہے وِزْرٌ فَسُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ اور نہ اس حق کو جو ان کی پیٹھوں میں ہے تو یہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحُمُرِ قَالَ مَا أُنْزِلَ گھوڑے اس کے لئے پردہ پوشی کا موجب ہوں گے عَلَيَّ فِيهَا إِلَّا هَذِهِ الْآيَةَ الْفَاذْةَ اور وہ شخص جس نے ان کو فخر اور دکھلاوے اور ضد الْجَامِعَةَ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ بضدی مقابلہ کرنے کی وجہ سے باندھا تو وہ اس کے خَيْرًا يَّرَة وَ مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ لئے عذاب کا موجب ہوں گے۔اور رسول اللہ لیم سے گدھوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ان کے متعلق سوائے اس اکیلی آیت کے جو سب پر حاوی ہے مجھ پر اور کچھ نازل نہیں ہوا۔یعنی پھر جس نے ایک ذرہ کے برابر (بھی) نیکی کی ہوگی وہ اس (کے نتیجہ ) کو دیکھ لے گا۔اور جس نے ایک ذرہ کے برابر بھی بدی کی ہو گی وہ اس کے نتیجہ ) کو دیکھ لے گا۔شرايرة (الزلزال: ۸، ۹) أطرافه: ٢٣٧١ ، ٢٨٦٠، ٣٦٤٦، ٤٩٦٣، ٧٣٥٦۔