صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 455
صحیح البخاری جلد ۱۲ -40 ۴۵۵ -٦ كتاب التفسير / اذا زلزلت الارض ٩٩ سُورَةُ إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ اللہ کے نام کے ساتھ جو رحمن اور رحیم ہے سُورَةُ اذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا : حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں : تشریح: اس سورت کے آغاز میں ذکر فرمایا گیا ہے کہ زمین اپنے بوجھ باہر نکال پھینکے گی اور اسی تسلسل میں آخر پر فرمایا کہ محض بو جھل نیکیوں یا بدیوں کا ہی حساب نہیں لیا جائے گا بلکہ اگر کسی نے نیکی کا چھوٹے سے چھوٹاذرہ بھی سر انجام دیا ہو تو وہ اس کی جزا دیکھے گا اور چھوٹے سے چھوٹا ذرہ بدی کا اگر کیا ہو تو وہ اس کی سزا بھی دیکھے گا۔( ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفۃ المسح الرائح، تعارف سورۃ الزلزال صفحہ نمبر ۱۱۹) بَاب :١: قَوْلُهُ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَةُ (الزلزال: ٨) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: جس نے ذرہ بھر بھی نیکی کی وہ اس کو دیکھ لے گا يُقَالُ أولى لَهَا (الزلزال : (٦) وَأَوْحَى کہا جاتا ہے کہ اولى لها بمعنی أَوْحَى إِلَيْهَا ہے اور إِلَيْهَا وَوَحَى لَهَا وَوَحَى إِلَيْهَا وَاحِدٌ وَحَى لَهَا اور وھی الیکا یہ ایک ہی ہیں۔یعنی اس نے اسے وحی کی۔٤٩٦٢: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ ۴۹۶۲: اسماعیل بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ عَبْدِ اللهِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زید بن اسلم سے، أَسْلَمَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ أَبِي زِید نے ابوصالح سمان سے، ابوصالح نے حضرت هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَيْلَ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھوڑے تین قسم کے لِثَلَاثَةٍ لِرَجُلٍ أَجْرٌ وَلِرَجُلِ سِترٌ لوگوں کے لیے ہوتے ہیں کسی شخص کے لئے اجر کا وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ فَأَمَّا الَّذِي لَهُ أَجْرٌ موجب اور کسی شخص کے لئے پردہ پوشی کا موجب فَرَجُلٌ رَبَطْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَطَالَ اور کسی شخص کے لئے گناہ کا موجب۔جس کو تو ثواب لَهَا فِي مَرْجِ أَوْ رَوْضَةٍ فَمَا أَصَابَتْ ملتا ہے وہ شخص ہے جس نے اللہ کی راہ میں ان کو