صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 454
حيح البخاری جلد ۱۲ ومنهم ۶۵ - كتاب التفسير الميكن أَمَرَنِي أَنْ أُقْرِنَكَ الْقُرْآنَ قَالَ اللهُ بن کعب سے فرمایا: اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں سَمَّانِي لَكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَقَدْ تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں۔حضرت اُبی نے کہا: کیا ذُكِرْتُ عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ قَالَ نَعَمْ اللہ نے میرا نام لے کر آپ سے فرمایا؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔حضرت اُئی نے کہا: کیا رب العالمین فَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ۔کے پاس میرا بھی ذکر کیا گیا تھا؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔یہ سن کر ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔أطرافه ٣٨٠٩ ٤٩٥٩، ٤٩٦٠ - تشریح : قَالَ وَسَمانِي قَالَ نَعَمُ : حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا باب نمبر تاس میں وہ مقام بیان کیا گیا ہے جو خدا کی نظر میں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ ابی کو اس سورۃ کی یہ آیات پڑھ کر سنائیں۔حضرت اُبی نے پوچھا کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا تھا آپ نے فرمایا ہاں اس پر وہ آبدیدہ ہو گئے کہ میری یہ خوش نصیبی کہ اللہ تعالیٰ نے میر انام لیا ہے۔یہ بنو نجار میں سے تھے اور سابقین اولین میں سے تھے۔بیعت عقبہ اور غزوہ بدر میں شریک ہوئے اور ان کے بعد باقی غزوات میں بھی۔۳۰ھ میں فوت ہوئے۔ان کا شمار قراء اربعہ اور فقہاء اہل مدینہ میں ہوتا ہے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۱۶،۱۶۰) احْمَدُ بْنُ أَبِي دَاودَ أَبُو جَعْفَرِ الْمُنَادِی: فربری کے نسخے میں یہ روایت امام بخاری کے شیخ احمد بن ابی داؤد ابو جعفر المنادی سے ہے جبکہ انسفی میں صرف ابو جعفر منادی مذکور ہے ، جس کا مطلب ہے کہ احمد نام امام بخاری کے شاگردوں میں سے صرف فربری نے بیان کیا ہے جو کہ درست نہیں۔امام بخاری کے اس شیخ کا نام محمد بن عبید اللہ بن یزید تھا اور ابو داؤد ان کے والد کی کنیت تھی بعض نے کہا ہے کہ محمد اور احمد امام بخاری کے ایک ہی شیخ کے دو نام ہیں، مگر یہ درست نہیں نیز بعض کے نزدیک ابو جعفر جو امام بخاری کے شیخ ہیں ان کے بھائی کا نام احمد تھا اور امام بخاری نے یہاں ان سے روایت لی ہے۔لیکن شارحین کے نزدیک یہ بات بھی درست نہیں ہے۔امام بخاری کے اس شیخ یعنی محمد بن ابی داؤد ابو جعفر المنادی کی بخاری میں اس روایت کے علاوہ اور کوئی روایت نہیں ان کی عمر ایک سو ایک سال اور چند ماہ بیان کی گئی ہے۔اور یہ امام بخاری کے بعد سولہ سال تک زندہ رہے۔ان سے ایسے لوگوں نے بھی روایت کی ہے جنہوں نے امام بخاری کا زمانہ نہیں پایا۔اس کی ایک مثال یہ ہے کہ امام بخاری کے اس شیخ یعنی ابو جعفر سے یہی حدیث من دعن ابو عمر و بن سماک نے روایت کی ہے جبکہ امام بخاری ابو عمر و بن سماک سے اٹھاسی سال پہلے فوت ہو چکے تھے۔یہ سابق ولاحق کی عجیب و غریب مثال ہے۔امام بخاری سابق شاگرد ہیں اور ابو عمرو بن سماک لاحق شاگرد ہیں۔ابو عمرو اور امام بخاری کے درمیان اٹھاسی سال کا فرق ہے۔در اصل امام بخاری اور ابو عمرو کا اس شیخ یعنی ابو جعفر المنادی میں اشتراک ہوا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۹۲۸٬۹۲۷)