صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 450 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 450

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۵۰ ۶۵ - كتاب التفسير / انا انزلنه ۹۷ سُورَةُ إِنَّا أَنْزَلْنَهُ " يُقَالُ الْمَطْلَعُ هُوَ الطُّلُوعُ وَالْمَطَّلِعُ الْمَطلع کے معنی طلوع کرنے کے کیے جاتے ہیں الْمَوْضِعُ الَّذِي يُطْلَعُ مِنْهُ اَنْزَلْنَهُ اور مطلع وہ جگہ ہے جہاں سے وہ طلوع کرتا ہے۔(القدر : ٢) الْهَاءُ كِنَايَةً عَنِ الْقُرْآنِ، اَنْزَلْنَهُ میں 8“ قرآن کی طرف اشارہ ہے۔اِنَّا اَنْزَلْنَهُ (القدر : ۲) خَرَجَ مَخْرَجَ إِنَّا أَنزَلْنہ میں ”نا“ جمع کا صیغہ ہے حالانکہ الْجَمِيعِ وَالْمُنْزِلُ هُوَ اللهُ تَعَالَى اُتارنے والا وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے اور عرب کبھی وَالْعَرَبُ تُوَكِّدُ فِعْلَ الْوَاحِدِ فَتَجْعَلُهُ مفرد کے فعل میں اس طرح بھی زور دیتے ہیں بِلَفْظِ الْجَمِيعِ لِيَكُونَ أَثْبَتَ وَأَوْكَدَ۔کہ اس کے لفظ کو جمع کر دیتے ہیں تا کہ اس کے معنی زیادہ مضبوط اور تاکیدی ہوں۔تشریح : سُورَةُ انا انزلنه : اس سے ماقبل سورہ علق ہے، جس سے قرآنی وحی کا آغاز ہوا ہے۔سورہ قدر میں یہ خوش خبری دی گئی ہے کہ وہ ہر قسم کی اندھیری راتوں کو روشن کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اور یہ اس فانی فی اللہ کی ان اندھیری راتوں کی دعاؤں کا ثمرہ ہے جو قرآنِ کریم کی صورت میں ظاہر ہوا یہ وہ نور ہے جو ہر سو روشنی پھیلا تا چلا جائے گا۔پس ایسی رات کی ایک گھڑی اگر کسی شخص کو نصیب ہو جائے تو اس کی ساری عمر کی جد و جہد سے بہتر ہے۔انا انزلنے میں ”نا“ جمع کا صیغہ ہے۔عرب واحد کے لیے جمع کا صیغہ تاکید کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔یہ ابو عبیدہ کا قول ہے۔اور ابنِ تین کہتے ہیں نحویوں کے نزدیک یہ تعظیم کے لیے ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۹۲۶) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ہم نے اس کتاب اور اس نبی کو لیلتہ القدر میں اتارا ہے اور تو جانتا ہے کہ لیلۃ القدر کیا چیز ہے لیلۃ القدر ہزار مہینہ سے بہتر ہے اس میں فرشتے اور روح القدس اپنے رب کے اذن سے اترتے ہیں۔اور وہ ہر یک امر میں سلامتی کا وقت ہوتا ہے یہاں تک کہ فجر ہو۔اب اگر چہ مسلمانوں کے ظاہری عقیدہ کے موافق لیلۃ القدر ایک متبرک رات کا نام ہے مگر جس حقیقت پر خد اتعالیٰ نے مجھ کو مطلع کیا ہے وہ یہ ہے کہ علاوہ ان معنوں کے جو مسلم قوم ہیں لیلتہ القدر وہ زمانہ بھی ہے جب دنیا میں ظلمت پھیل جاتی ہے اور ہر طرف تاریکی ہی تاریکی ہوتی ہے تب وہ تاریکی بالطبع