صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 449
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۴۹ ۶۵ - كتاب التفسير / اقرا باسم ربك الذي بطور سزا ان پر وارد ہوئی اور دراصل اس میں اللہ تعالیٰ کی اس سنت مستمرہ کا ذکر ہے جو ہمیشہ مخالفین انبیاء کے ساتھ کار فرماد کھائی دیتی ہے۔فرمایا: جس طرح یہ لوگ ہمارے بندوں کو ان کے بال پکڑ پکڑ کر گھسیٹتے ہیں اسی طرح ہم بھی ان کے بالوں سے ان کو گھسیٹیں گے مگر ہمارا یہ فعل ظالمانہ نہیں ہو گا بلکہ ان کے ظلم کی سزا کے طور پر ہو گا جیسا کہ قرآنِ مجید ایک دوسری جگہ فرماتا ہے: جَزُوا سَيِّئَةِ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا (الشوری: ۴۱) بدی کا بدلہ اتنی ہی بدی ہوتی ہے۔(ترجمہ تفسیر صغیر)