صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 24 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 24

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۴ ۶۵ - کتاب التفسير / حم السجدة هُوَ الْإِرْشَادُ بِمَنْزِلَةِ أَصْعَدْنَاهُ مِنْ بتا دیا اور وہ ہدایت جس کے معنی صحیح راستہ بتلانا ذَلِكَ قَوْلُهُ: أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللهُ ہے ، یہ أَصْعَدْنَاهُ کے معنوں میں ہے۔ یعنی ہم فَبِها لَهُمُ اقْتَدِهُ ( الأنعام : (۹۱) يُوزَعُونَ نے اُسے بلند کیا۔ انہی معنوں میں اللہ تعالیٰ کا یہ ( حم السجدة : ٢٠) يُكَفَّونَ مِنْ الْمَامِهَا قول ہے کہ انہی (مذکورہ بالا لوگوں) کو اللہ نے ہدایت دی۔ پس تو اُن کی ہدایت کی پیروی کر۔ ( حم السجدة : ٤٨) قِشْرُ الْكُفُرَّى هِيَ يُوزَعُونَ یعنی وہ روکے جائیں گے۔ مِنْ الْمَامِهَا الْكُمُ۔ {وَقَالَ غَيْرُهُ وَيُقَالُ لِلْعِنَبِ إِذَا خَرَجَ أَيْضًا كَافُورٌ وَكُفُوًى لَ وَلِيُّ گابھے کے چھلکا کو گھر کہتے ہیں۔ اور (مجاہد کے سوا اوروں نے کہا: انگور جب نکلے اس کو بھی حيم (حم السجدة : ٣٥) القريب۔ کافور اور کھڑی کہتے ہیں۔ ولی حید کے معنی مِنْ مَّحِيصٍ ( حم السجدة : ٤٩) حَاصَ حيم ۔ ہیں دوست جو بہت ہی قریب ہو۔ مِنْ مَحِيصٍ عَنْهُ حَادَ عَنْهُ مِرْيَة ( حم السجدة : ٥٥) یعنی بھاگ جانے کی کوئی جگہ (یہ خاص سے نکلا وَمُرْيَةٌ وَاحِدٌ أَيْ امْتِرَاء۔ وَقَالَ مُجَاهِدٌ ہے) حَاصَ عَنْهُ کے معنی ہیں: بھاگ نکلا، الگ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ ( حم السجدة : ٤١) ہو گیا ۔ مِرْيَةٌ اور مُرْيَةٌ ایک ہی ہیں یعنی شک الْوَعِيدُ۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ اِدْفَعْ بِالَّتِي کرنا۔ اور مجاہد نے کہا: اعْمَلُوا مَا شِئْتُم یعنی جو هيَ أَحْسَنُ ( حم السجدة : ٣٥) الصَّبْرُ تم چاہو کرو۔ یہ دھمکی ہے۔ اور حضرت ابن عباس عِنْدَ الْغَضَبِ وَالْعَفْوُ عِنْدَ الْإِسَاءَةِ نے کہا: ادفع بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ سے یہ مراد ہے فَإِذَا فَعَلُوهُ عَصَمَهُمُ اللهُ وَخَضَعَ لَهُمْ کہ غصے کے وقت صبر کرنا اور بُرائی کے وقت عَدُوُّهُمْ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ ۔ معاف کرنا۔ جب وہ اس پر عمل کریں گے اللہ ان ( حم السجدة: ٣٥) کو بچالے گا اور ان کے کے دشمن بھی عاجز ہو کر ان کے گہرے دوست بن جائیں گے۔ ے یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۷۰۷) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔