صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 24
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۴ ۶۵ - کتاب التفسير / حم السجدة حيم (حم : حم السجدة : ٣٥) الْقَرِيبُ۔هُوَ الْإِرْشَادُ بِمَنْزِلَةِ أَصْعَدْنَاهُ مِنْ بتا دیا اور وہ ہدایت جس کے معنی صحیح راستہ بتلانا ذَلِكَ قَوْلُهُ: أُولبِكَ الَّذِينَ هَدَى الله ہے، یہ أَصْعَدْنَاهُ کے معنوں میں ہے۔یعنی ہم فَيَهُدُ بهُمُ اقْتَدِهُ (الأنعام : ۹۱) يُوزَعُونَ نے اُسے بلند کیا۔انہی معنوں میں اللہ تعالیٰ کا یہ ( حم السجدة: ٢٠) يُكَفَّونَ مِنْ أَكْيَامِهَا قول ہے کہ انہی (مذکورہ بالا لوگوں) کو اللہ نے ( حم السجدة : ٤٨) قِشْرُ الْكُفْرَّى هِيَ ہدایت دی۔پس تو اُن کی ہدایت کی پیروی کر۔الْكُمُ۔{وَقَالَ غَيْرُهُ وَيُقَالُ لِلْعِنَبِ إِذَا يُوزَعُونَ یعنی وہ رو کے جائیں گے۔مِنْ الْمَامِهَا خَرَجَ أَيْضًا كَافُورٌ وَكُفْرَى وَلي گابھے کے چھلکا کو گھر کہتے ہیں۔اور (مجاہد کے سوا) اوروں نے کہا: انگور جب نکلے اس کو بھی كَافُور اور کفری کہتے ہیں۔وَلِيٌّ حَيدُم کے معنی ہیں دوست جو بہت ہی قریب ہو۔مِنْ مَحِيصٍ۔عَنْهُ حَادَ عَنْهُ مِرْيَة (حم السجدة : ٥٥ ) یعنی بھاگ جانے کی کوئی جگہ (یہ خاص سے نکلا وَمُرْيَةٌ وَاحِدٌ أَيْ امْتِرَاء۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ ہے) حَاصَ عَنْهُ کے معنی ہیں: بھاگ نکلا، الگ اعْمَلُوا مَا شِئْتُم ( حم السجدة : ٤١) ہو گیا۔مِرْيَةٌ اور مُرْيَةً ایک ہی ہیں یعنی شک الْوَعِيدُ۔وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ ادْفَعْ بِالَّتِي کرنا۔اور مجاہد نے کہا: اعْمَلُوا ما شفتم یعنی جو هِيَ أَحْسَنُ ( حم السجدة : ٣٥) الصَّبْرُ تم چاہو کر و۔یہ دھمکی ہے۔اور حضرت ابن عباس عِنْدَ الْغَضَبِ وَالْعَفْوَ عِنْدَ الْإِسَاءَةِ نے کہا: ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ سے یہ مراد ہے فَإِذَا فَعَلُوهُ عَصَمَهُمُ اللَّهُ وَخَضَعَ لَهُمْ کہ غصے کے وقت صبر کرنا اور برائی کے وقت عَدُوُّهُمْ كَأَنَّهُ وَلِيُّ حَييم۔معاف کرنا۔جب وہ اس پر عمل کریں گے اللہ ان مِنْ مَّحِيصٍ ( حم السجدة : ٤٩) حَاصَ و ( حم السجدة : ٣٥) کو بچالے گا اور ان کے دشمن بھی عاجز ہو کر ان کے گہرے دوست بن جائیں گے۔1۔یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۷۰۷) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔