صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 444 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 444

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۴۴ ۶۵ - کتاب التفسير / اقرا باسم ربك الذي میں کوئی شخص نیا مسئلہ نکالتا ہے تو تم کہتے ہو وہ بڑا عالم ہے۔جب علم العائلہ پر کوئی شخص نئے رنگ میں روشنی ڈالتا ہے تو تم کہتے ہو وہ بڑا عالم ہے۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ شخص ہیں کہ آج تک جس علم میں بھی کوئی کتاب لکھی گئی ہے وہ ان کے علم کے مقابل میں بالکل بیچ ہے۔قلمیں ان کے مقابلہ میں ٹوٹ چکی ہیں۔عالم ان کے مقابلہ میں گنگ ہو چکے ہیں۔معارف کا ایک سمندر ہے جو انہوں نے دنیا میں بہا دیا ہے اور علوم کا ایک نہ ختم ہونے والا ذخیرہ ہے جو انہوں نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ایسی صورت میں اگر تم تعصب سے کام نہ لو تو بآسانی اس نتیجہ پر پہنچ سکتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر معمولی قابلیت ان کے غیر معمولی علم اور آسمانی تائید اور ہدایت کے نتیجہ میں ہے نہ کہ نعوذ باللہ غیر معمولی جہالت کے نتیجہ میں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاگل اور غیر معمولی عقلمند اور بڑے عالم اور بڑے جاہل میں یہ اشتراک ہوتا ہے کہ یہ بھی اپنے اندر غیر معمولی طاقت رکھتا ہے۔اور وہ بھی اپنے اندر غیر معمولی طاقت رکھتا ہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی یہ فرق ہوتا ہے کہ ایک شخص نیچے کی طرف غیر معمولی طور پر گرتا ہے اور دوسرا شخص اوپر کی طرف غیر معمولی طور پر جاتا ہے۔غیر معمولی علم رکھنے والا وہ باتیں بتاتا ہے جو بڑے بڑے عالموں کو بھی نہیں سوجھتیں اور غیر معمولی جہالت رکھنے والا وہ باتیں بتاتا ہے جو بڑے بڑے بیوقوفوں اور جاہلوں سے بھی صادر نہیں ہوتیں۔بہر حال محض کسی غیر معمولی قابلیت کی وجہ سے دوسروں سے الگ ہونا اس کے جنون کی علامت نہیں ہوتا۔بلکہ دیکھا یہ جاتا ہے کہ اس کے حالات کا تغیر بنی نوع انسان کے فائدہ کا موجب ہوا ہے یا نقصان کا موجب ہوا ہے۔اگر فائدہ کا موجب ہو تو کوئی شخص اس تغیر کو جنون کا نتیجہ قرار نہیں دے سکتا۔یہ کتنی سچی اور پختہ دلیل ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیش کی گئی اور پیش بھی ایسے موقع پر کی گئی جب ابھی وحی کے نزول کا ابتداء ہی ہو ا تھا۔میں تو سمجھتا ہوں یہ بھی قرآن کریم کا ایک زبر دست معجزہ ہے کہ اس نے ابتداء وحی میں بھی اس اعتراض کا جواب دے دیا جو دشمنان اسلام نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کے متعلق کرنا تھا۔