صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 443 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 443

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۵ - کتاب التفسير / اقرا باسم ربك الذي نہیں سیکھا۔اور یہ ثبوت ہو گا اس بات کا کہ تو پاگل نہیں۔تیرے دماغ میں کوئی نقص نہیں۔اور اگر تجھے پاگل قرار دیا جا سکتا ہے تو پھر ان سب لوگوں کو پاگل قرار دینا پڑے گا جنہوں نے دنیا میں علوم کو پھیلایا اور بنی نوع انسان پر علمی اور روحانی رنگ میں احسان عظیم کیا۔لیکن اگر وہ ان کو پاگل قرار نہیں دیتے تو تجھے کس منہ سے پاگل کہہ سکتے ہیں۔کیا وہ نہیں دیکھتے کہ دنیا میں جب کوئی شخص کسی علم پر کوئی کتاب لکھتا ہے تو لوگ اسے پاگل قرار نہیں دیتے بلکہ کہتے ہیں وہ بڑا فاضل ہے۔بڑا عالم اور سمجھدار ہے۔اس نے اس علم کی باریکیوں پر بڑی عمدگی سے روشنی ڈالی ہے مگر تو وہ ہے جو ہر علم کے ایسے نکات کو بیان کرتا ہے جن کی طرف اس علم کے بڑے بڑے ماہرین کی بھی آج تک نظر نہیں گئی پھر اگر وہ ایک علم پر معمولی روشنی ڈال کر عالم سمجھے جاسکتے ہیں تو تو تمام روحانی، اخلاقی، اقتصادی، قضائی، سیاسی، عائلی علوم کے متعلق ان کے ماہرین سے زیادہ روشنی ڈال کر مجنون کیونکر سمجھا جائے گا۔آخر مجنون کہنے کی کوئی وجہ ہونی چاہئے۔اگر تو کام وہ کر رہا ہے جو بڑے بڑے عالموں نے بھی نہیں کیا تو تجھے مجنون کس طرح کہا جا سکتا ہے۔اور لوگوں کی کیسی حماقت ہے کہ وہ اتنی موٹی بات کو بھی نہیں سمجھتے کہ عقل اور جنون میں اور علم اور جہالت میں بعد المشرقین ہے۔جب دنیا میں تو علوم کے وہ خزانے تقسیم کر رہا ہے جو بڑے بڑے عالموں کے واہمہ میں بھی کبھی نہیں آئے تو بہر حال اسے یہی کہنا پڑے گا کہ تو بڑا عالم ہے۔وہ یہ نہیں کہ سکتی کہ تو مجنون ہے یا تیرے دماغ میں فتور واقع ہو گیا ہے۔اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالی فرماتا ہے جن وَ الْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ مَا أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ 0 اے لوگو! آج تک قلم اور دوات سے جو کچھ لکھا گیا ہے اسے ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور اس کے مجنون نہ ہونے کے ثبوت کے طور پر تمہارے سامنے پیش کرتے ہیں۔تم جانتے ہو کہ جب دنیا میں علم الاخلاق پر کوئی کتاب لکھتا ہے تو تم کہتے ہو وہ بڑا عالم ہے۔جب علم العقائد پر کوئی کتاب لکھتا ہے تو تم کہتے ہو وہ بڑا عالم ہے۔جب علم سیاست میں کوئی شخص نئی راہ پیدا کرتا ہے تو تم کہتے وہ بڑا عالم ہے۔جب علم الاقتصاد