صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 445
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۴۵ ۶۵ - کتاب التفسير / اقرا باسم ربك الذي اور ایسی حالت میں دے دیا جبکہ خود مکہ والوں کے سامنے بھی ابھی آپ نے اپنا دعویٰ پیش نہیں کیا تھا۔سب لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی ا ہم نے سورۃ المدثر کی ابتدائی آیات کے نزول کے بعد مکہ والوں کے سامنے اپنا دعویٰ پیش کیا ہے۔مگرن والقلم کی ابتدائی آیات وہ ہیں جو اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ کے معا بعد نازل ہو ئیں گویا ابھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اپنی نبوت کا اعلان بھی نہیں ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت یہ خبر دے دی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مجنون ہونے کا اعتراض کیا جائے گا۔اور اگر پہلی وحی کے بعد کسی نے یہ اعتراض کیا بھی تھا تب بھی قرآن کریم نے پہلی وحی کے بعد سب سے پہلا کام یہ کیا کہ دشمنوں کے اس اعتراض کا جواب دے دیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ جنون ہو گیا ہے۔اور جواب بھی ایسا زبر دست دیا کہ جس کا انکار نہیں ہو سکتا۔آج کل کے سائیکالوجسٹ کہتے ہیں کہ غیر معمولی قابلیت جنون کی علامت ہوتی ہے۔میں اس کا جواب اوپر دے چکا ہوں لیکن اگر اس جواب سے کسی کی تسلی نہ ہو تو میں کہتا ہوں کہ اگر غیر معمولی قابلیت جنون سے حاصل ہوتی ہے تو پھر ہم بھی خواہش کرتے ہیں کہ خدا کرے ہم بھی ایسے پاگل بن جائیں کیونکہ جب دنیا کی ترقی غیر معمولی قابلیت سے وابستہ ہے اور غیر معمولی قابلیت جنون کی علامت ہے تو پھر دنیا کی ترقی عقلمندوں سے نہیں بلکہ پاگلوں سے وابستہ ہے۔اور وہی لوگ اس قابل ہیں کہ ان کا نمونہ بننے کی کوشش کی جائے۔" ( تفسیر کبیر،سورۃ العلق،جلد ۹ صفحه ۲۳۳ تا ۲۳۷) باب ۲ : قَوْلُهُ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ (العلق : ٣) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: (اور جس نے) انسان کو ایک خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا ٤٩٥٥ : حَدَّثَنَا ابْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا ۴۹۵۵: (يجي ) بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ليث بن سعد) نے ہمیں بتایا، انہوں نے عقیل سے، عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ عقیل نے ابن شہاب سے ، ابن شہاب نے عروہ