صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 442 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 442

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۴۲ ۶۵ - کتاب التفسير / اقرا باسم ربك الذي بعد سورہ نون والقلم کی آیات رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئیں اور یہ آیات اسی مضمون کی حامل ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق لوگوں کا یہ خیال کرنا بالکل غلط ہے کہ ان کے دماغ میں کوئی نقص واقعہ ہو گیا ہے۔یہ قرآن کریم کا ایک ایسا اعجاز ہے کہ جس پر غیر مسلم اگر دیانتداری کے ساتھ غور کریں تو انہیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ کلام کسی انسانی دماغ کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ کلام ہے۔دیکھو ابھی دنیا نے یہ اعتراض نہیں کیا تھا کہ نزول وحی کے واقعات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جنون کی علامت ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے عرش سے دیکھ لیا کہ ایک دن آنے والا ہے جب دشمن نزول وحی کی کیفیت کو نہ سمجھتے ہوئے یہ اعتراض کرے گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ مجنون تھے۔چنانچہ دوسری ہی وحی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اس میں اللہ تعالیٰ نے اس شبہ کا ازالہ کیا اور فرمایان وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ مَا أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَيْكَ بِمَجْنُونِ (سورۃ القلم ع۱) ہم قسم کھا کر پیش کرتے ہیں دوات اور قلم کو اور ان تمام تحریروں کو جو قلم اور دوات سے لکھی گئی ہیں کہ اگر دنیا کی تمام تحریروں کو جمع کیا جائے تو ان سے نتیجہ یہ نکلے گا کہ مَا أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ تو اپنے رب کی نعمت سے پاگل نہیں ہے۔یہ دوسری سورۃ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور جس کے ابتداء میں ہی اس اعتراض کا اللہ تعالیٰ نے جواب دے دیا ہے جو پہلی وحی سے لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو سکتا تھا اور وہ جواب یہ ہے کہ قلم اور دوات نے جس قدر علوم لکھے ہیں وہ سب اس امر کے شاہد ہیں کہ تو مجنون نہیں۔یعنی اگر علوم عالموں کے لکھے ہوئے ہیں تو تو ان سے بڑھ کر علم بیان کرتا ہے۔اگر وہ ادنی علوم سے عالم کہلاتے ہیں تو تو اعلیٰ علم سے مجنون کیوں کہلانے لگا۔بہر حال ان سے بڑا عالم کہلائے گا اور تیرا ان سے اختلاف علم کی زیادتی کی وجہ سے کہلائے گا نہ کہ علم کی کمی کی وجہ سے۔تیرے مجنون نہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ دنیا میں جس قدر روحانی ترقیات یا دین سے تعلق رکھنے والے علوم پائے جاتے ہیں ان سب کے مقابلہ میں تو دنیا کو وہ کچھ سکھائے گا جو اس نے پہلے