صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 441
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۴۱ ۶۵ - کتاب التفسير / اقرا باسم ربك الذي جاری ہو جاتا ہے۔جب معمولی افسروں کے رعب کی وجہ سے انسان کی یہ حالت ہو جاتی ہے تو سوچنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال اور اس کی جبروت کا آپ پر کس قدر اثر ہو سکتا تھا۔پس آپ نے اگر زَمِّلُونِي زَمَلُونی کہا تو اس کی وجہ در حقیقت یہی تھی کہ آپ پر الہی کلام کا رعب طاری ہو گیا۔آپ نے چاہا کہ تھوڑی دیر کیلئے آپ لیٹ جائیں تاکہ آپ کے قویٰ کو سکون حاصل ہو جائے۔وہ لوگ جو اس کو جنون کا نتیجہ قرار دیتے ہیں ان سے ہم پوچھتے ہیں کہ کیا کپڑا اوڑھنا جنون کی علامت ہوتی ہے ؟ ہم نے تو کبھی نہیں سنا کہ کوئی ڈاکٹر کسی ایسے مریض کے پاس گیا ہو جس میں جنون کے آثار پائے جاتے ہوں تو اس نے مریض کے لواحقین سے یہ سوال کیا ہو کہ کیا یہ مریض کبھی کپڑا بھی اوڑھتا ہے یا نہیں؟ اگر کپڑا اوڑھتا ہے تو ضرور پاگل ہے اور اگر کپڑا نہیں اوڑھتا تو پاگل نہیں۔ایسا سوال آج تک کبھی کسی ڈاکٹر نے نہیں کیا۔پس محض کپڑا اوڑھنے سے مخالفین اسلام کا یہ نتیجہ نکالنا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ جنون ہو گیا تھا خود ان کے مجنون ہونے کی علامت ہے۔دیکھنے والی بات تو یہ ہے کہ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باقی حالتیں بھی مجنونانہ تھیں یا نہیں۔یہ بات ظاہر ہے کہ ہر غیر معمولی قابلیت والے شخص کی حالت دوسروں سے الگ ہوتی ہے۔محض غیر معمولی قابلیت کے نتیجہ میں کسی کی الگ حالت ہونے سے اس پر مجنون ہونے کا فتویٰ نہیں لگایا جاسکتا اور جو ایسا کرتا ہے وہ اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ دنیا کی تمام ترقی مجنونوں سے وابستہ ہے، کیا ایسا شخص خود پاگل نہیں؟ پھر یہ بھی دیکھو کہ دشمن نے تو آج یہ اعتراض کیا ہے کہ نزول وحی کے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دماغ میں نعوذ باللہ نقص واقعہ ہو گیا تھا مگر قرآن کریم نے اپنی ابتدائی آیات میں ہی اس سوال کا جواب پوری تفصیل کے ساتھ دے دیا تھا اور دنیا کو بتا دیا تھا کہ اس کا یہ اعتراض سراسر حماقت پر مبنی ہے چنانچہ سورہ نون والقلم میں اس اعتراض کا جواب موجود ہے۔یہ بتایا جا چکا ہے کہ مفسرین اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ سورۂ علق کی ابتدائی آیات کے نزول کے معا